پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین رمیز راجا نے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کی حالیہ ٹیسٹ اسکواڈز سے عدم موجودگی پر گفتگو کرتے ہوئے فٹنس اور ٹیم کے ماحول سے متعلق کئی ممکنہ عوامل کا ذکر کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق یہ گفتگو ایک پوڈکاسٹ میں ہوئی جس میں انگلینڈ کے سابق کرکٹرز سر الیسٹر کک، ڈیوڈ لائیڈ، مائیکل وان اور فل ٹفنل بھی شریک تھے۔

رپورٹ کے مطابق رمیز راجا سے شاہین آفریدی کی ٹیسٹ ٹیم میں عدم شمولیت کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے ابتدا ہی میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ شاہین کے ساتھ اصل میں کیا ہوا ہے۔ اس وضاحت کی وجہ سے ان کے بعد کے نکات کو کسی سرکاری وجہ، طبی تشخیص یا پاکستان کرکٹ بورڈ کے حتمی فیصلے کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔

رمیز راجا نے کہا کہ گھٹنے کی انجری کے بعد ممکن ہے شاہین سو فیصد فٹ نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کی جانب سے شاہین کے رویے سے متعلق باتیں کی جاتی ہیں، لیکن وہ انہیں اتنا قریب سے نہیں جانتے کہ اس بارے میں حتمی رائے دے سکیں۔ یہ گفتگو دوسروں سے سنی جانے والی باتوں اور ذاتی اندازے کی حد میں ہے، کسی ثابت شدہ تادیبی کارروائی یا باضابطہ ٹیم رپورٹ کی تصدیق نہیں۔

سابق پی سی بی چیئرمین کے مطابق ٹیم کے اندر عمومی تاثر، ذہنی طور پر مکمل موجودگی، مزاج میں اتار چڑھاؤ اور کھلاڑی کے ساتھ انتظامی برتاؤ جیسے عوامل میدان میں کارکردگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ دستیاب رپورٹ میں کسی موجودہ سلیکٹر، ٹیم منیجر، طبی افسر یا خود شاہین آفریدی کا اس گفتگو پر ردعمل شامل نہیں۔

رپورٹ میں پس منظر کے طور پر بتایا گیا ہے کہ شاہین آفریدی ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے اور بنگلا دیش کے خلاف مئی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے بعد انہیں ٹیسٹ ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا۔ پاکستان اس وقت انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیل رہا ہے۔

اس خبر میں قابلِ تصدیق بات رمیز راجا کی اپنی گفتگو اور شاہین کی حالیہ ٹیسٹ اسکواڈز سے عدم موجودگی ہے۔ ان کی فٹنس، رویے یا سلیکشن کی حتمی وجہ کے لیے پی سی بی، ٹیم انتظامیہ یا متعلقہ کھلاڑی کا باضابطہ بیان درکار ہوگا۔ جب تک ایسی وضاحت سامنے نہ آئے، مختلف ممکنہ عوامل کو قطعی وجہ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک