لاہور: پنجاب ہتک عزت ٹریبونل نے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف معین ریاض قریشی کے خلاف دائر دعوے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مدعا علیہ کو 30 لاکھ روپے عمومی ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹریبونل نے تاہم خصوصی اور تعزیری ہرجانے سے متعلق وزیر اطلاعات کی درخواست منظور نہیں کی۔

ٹریبونل کے رکن انجم رضا سید کی جانب سے جاری مختصر حکم میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں کے وکلا نے حتمی دلائل مکمل کر لیے تھے اور مدعیہ کا دعویٰ عمومی ہرجانے کی حد تک منظور کیا جاتا ہے۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جس میں عدالتی وجوہات اور قانونی نکات کی مزید وضاحت متوقع ہے۔

عظمیٰ بخاری نے جنوری میں معین ریاض قریشی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے 80 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے ان کے بارے میں بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے۔ مدعیہ کے وکیل نے ٹریبونل کے سامنے دلیل دی کہ قریشی نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں متعلقہ بیانات دینے کا اعتراف کیا، لیکن ان الزامات کے حق میں ثبوت پیش نہیں کیے۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب خیبر پختونخوا کے اس وقت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پنجاب اسمبلی کا دورہ کیا۔ قریشی نے الزام لگایا تھا کہ صوبائی وزیر نے اسمبلی احاطے میں دو سو معاوضہ لینے والے افراد کو داخل کرایا اور وزیراعلیٰ سے سوال کرنے والے صحافی ان کے تنخواہ دار تھے۔ یہ الزامات مقدمے کا بنیادی موضوع بنے، تاہم ٹریبونل کے مختصر فیصلے میں صرف عمومی ہرجانے کی رقم واضح کی گئی ہے۔

اس فیصلے کو ہتک عزت کے مقدمے میں دیوانی ذمہ داری کے تعین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی فوجداری سزا کے طور پر۔ خصوصی اور تعزیری ہرجانے کی درخواست مسترد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مدعیہ کو ان مدات میں مانگی گئی رقم نہیں دی گئی۔ مقدمے کے قانونی اثرات اور فیصلے کے خلاف ممکنہ اپیل یا دیگر عدالتی راستوں کے بارے میں فریقین کے آئندہ اقدامات تفصیلی فیصلے اور متعلقہ قانون کے تحت سامنے آئیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف نے فیصلے کے بعد اپنے بیان میں مختلف رقم کا حوالہ دیا، تاہم دستیاب مختصر عدالتی حکم کے مطابق عمومی ہرجانہ 30 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے خبر میں عدالتی حکم میں درج رقم کو بنیادی اور مصدقہ قانونی نتیجہ سمجھا گیا ہے۔