کراچی: سندھ کابینہ نے نوجوان کاروباری میر رضا علی کی ہلاکت اور اس کی ابتدائی تفتیش میں ممکنہ غفلت سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں طے پایا کہ سات الگ مہر بند لفافوں میں موصول ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ صوبائی محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی اور اس کی ایک نقل متاثرہ خاندان کو بھی فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق کابینہ نے رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تحقیقاتی عمل میں شفافیت، جواب دہی اور قانونی تقاضوں پر عمل کو یقینی بنانا ہے۔

عدالتی کمیشن سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں کے بیانات اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ رپورٹ گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت کے حوالے کی گئی تھی۔ کمیشن کو مزید تفتیش، فرانزک جانچ اور ممکنہ قانونی یا محکمانہ کارروائی سے متعلق سفارشات پیش کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ مقررہ مدت میں کام مکمل نہ ہونے پر کمیشن کی مدت میں 15 اکتوبر تک توسیع بھی کی گئی تھی۔

میر رضا علی، جو 25 سالہ کاروباری اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے فارغ التحصیل تھے، 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوئے تھے۔ اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے ایک علاقے میں جھاڑیوں سے ملی تھی اور جسم پر گولی کا زخم موجود تھا۔ ابتدائی پولیس مؤقف اور پہلے پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر معاملے کو خودکشی کے زاویے سے دیکھا گیا، تاہم پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے پہلے پوسٹ مارٹم کے نتائج سے اختلاف کیا تھا۔

بعد میں ہونے والے دوسرے پوسٹ مارٹم میں موت کے شواہد کو خودکشی سے غیرمطابق قرار دیا گیا اور طبی بورڈ نے رائے دی کہ موت پشت پر گولی لگنے سے ہوئی۔ انہی متضاد طبی اور تفتیشی نکات کے بعد معاملے کی آزادانہ جانچ کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ کابینہ کا تازہ فیصلہ رپورٹ کو خفیہ رکھنے کے بجائے عوامی ریکارڈ کا حصہ بنانے سے متعلق ہے؛ رپورٹ میں ذمہ داری یا آئندہ کارروائی کے بارے میں حتمی تفصیلات اس کے باضابطہ اجرا اور سفارشات کے نفاذ سے واضح ہوں گی۔