مسلسل اپ ڈیٹس

میر رضا علی قتل: سندھ عدالتی کمیشن کی تفتیش

کراچی کے نوجوان کاروباری میر رضا علی کے 28 جولائی کو لاپتا ہونے اور اگلے روز گلستانِ جوہر میں گولی لگی لاش ملنے کے واقعے کی آزادانہ تفتیش سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن نے کی۔ کمیشن نے 15 سماعتوں میں 49 گواہوں اور دستاویزات کا جائزہ لیا اور پولیس تفتیش میں متعدد طریقۂ کار کی خلاف ورزیوں اور سنگین خامیوں کی نشاندہی کی؛ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں خودکشی کا زاویہ زیرِ غور تھا جبکہ بعد میں طبی نتائج اور دوسری پوسٹ مارٹم نے موت کو پشت کی جانب گولی لگنے سے متعلق اختلافات دکھائے۔ رپورٹ سات مہر بند لفافوں کی صورت میں صوبائی حکومت کو پیش کی گئی؛ سندھ کابینہ نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت رپورٹ عوام کے لیے محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری کرنے اور متاثرہ خاندان کو نقل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ضیاء الحسن لنجار، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر مشتمل چار رکنی ذیلی کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیشن کی رپورٹ ایک تحقیقی و انتظامی جائزہ ہے اور اس میں بتائے گئے نتائج خود بخود کسی فرد کے خلاف فوجداری سزا کے مترادف نہیں؛ آئندہ محکمانہ یا قانونی کارروائیاں متعلقہ حکام شواہد اور قانون کے مطابق کریں گے۔ آئندہ یہ دیکھا جائے گا کہ کمیشن کی سفارشات کون سی نافذ ہوتی ہیں اور کیا تفتیشی خامیوں کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے الگ کارروائی شروع ہوتی ہے۔

2 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے