کراچی کے 25 سالہ کاروباری نوجوان میر رضا علی کی موت کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے پولیس کی تفتیش کو سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے متعدد طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کمیشن کی رپورٹ سندھ کابینہ کے سامنے پیش کی گئی، جس کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں اسے عوام کے لیے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس نے ایسے ضروری تفتیشی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی جو مقدمے کو عدالتی جانچ اور کامیاب پراسیکیوشن کے قابل بنانے کے لیے اہم تھے۔
کمیشن نے تسلیم کیا کہ لاش ملنے کی ابتدائی اطلاع پر پولیس کا ردعمل فوری تھا، تاہم اس کے بعد کی تفتیش میں نمایاں کمزوریاں سامنے آئیں۔ سندھ حکومت کے مطابق رپورٹ سات سربمہر لفافوں میں پیش کی گئی تھی۔ صوبائی حکومت نے اسے محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے اور متاثرہ خاندان کو نقل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے چار رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس میں صوبائی وزرا اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔
کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا تھا۔ میر رضا 28 جولائی کو پی ای سی ایچ ایس میں اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوئے اور اگلے روز گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ان کی گولی لگی لاش ملی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم اور پولیس کی تفتیش نے خودکشی کے امکان پر توجہ دی تھی، لیکن بعد میں پولیس سرجن نے پہلے طبی نتائج سے اختلاف کیا۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کے انداز کو خودکشی سے غیر مطابقت قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گولی پشت کی جانب سے لگی تھی۔
عدالتی کمیشن کی رپورٹ ایک تحقیقاتی و انتظامی جائزہ ہے اور اس میں پولیس کی کارکردگی سے متعلق نتائج کو کسی فرد کے خلاف فوجداری سزا کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئندہ قانونی یا محکمانہ کارروائی متعلقہ حکام کو شواہد اور قانون کے مطابق کرنا ہوگی۔ سندھ حکومت نے شفافیت اور احتساب کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان طویل عرصے سے مؤثر تحقیقات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ کمیشن کی سفارشات میں سے کون سے اقدامات نافذ کیے جاتے ہیں اور آیا تفتیشی خامیوں کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے الگ محکمانہ یا قانونی کارروائی شروع ہوتی ہے۔
