اسلام آباد: بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق ان کا دورہ پاکستان اور بحرین کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کا حصہ ہے اور اس دوران دونوں ملک تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، دفاع، سلامتی، افرادی قوت اور ثقافتی تبادلوں سمیت دوطرفہ تعلقات کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیں گے۔

بحرینی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچنے پر اقتصادی امور ڈویژن کے سیکریٹری محمد ہمایوں کریم اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے مشرق وسطیٰ زاہد حسین کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ وہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان آئے ہیں۔

دورے کا مرکزی سفارتی مرحلہ پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس ہوگا، جس کی مشترکہ صدارت اسحاق ڈار اور عبداللطیف الزیانی کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں فریق باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عملی راستوں پر بات کریں گے اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

پاکستان اور بحرین نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے قیام پر 2014 میں اتفاق کیا تھا۔ کمیشن کا گزشتہ اجلاس جولائی 2021 میں منامہ میں ہوا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں نے کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ موجودہ اجلاس کئی سال کے وقفے کے بعد اس ادارہ جاتی رابطے کو دوبارہ فعال انداز میں آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اسحاق ڈار نے دورے سے قبل بین الوزارتی اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کو تیاری مکمل کرنے اور بحرینی وفد کے ساتھ مذاکرات سے ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ دونوں وزرائے خارجہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں بھی ملے تھے، جہاں مشترکہ وزارتی کمیشن کی تیاریوں سمیت دوطرفہ تعلقات پر گفتگو ہوئی تھی۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور عوامی روابط پر قائم ہیں۔ موجودہ دورے کے دوران ہونے والے فیصلوں اور معاہدوں کی نوعیت اس بات کا تعین کرے گی کہ تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت جیسے شعبوں میں اس سفارتی سرگرمی کے عملی نتائج کس رفتار سے سامنے آتے ہیں۔