اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے موجود ہیں اور مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ دفاعی اتحاد کے تحت اجتماعی دفاعی انتظامات پر عمل درآمد تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بین الاقوامی صحافی سے گفتگو میں پاکستانی فورسز کی سعودی عرب میں موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی پیش رفت نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی روابط طویل عرصے سے قائم ہیں، اسی پس منظر میں موجودہ دفاعی تعاون کو دیکھا جانا چاہیے۔
یہ وضاحت ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آئی۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق تینوں ملکوں نے اجتماعی دفاعی وعدوں کے عملی نفاذ، طے شدہ فوجی صلاحیتوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر سعودی عرب میں تیز تعیناتی کے انتظامات آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔
سرکاری بیان میں کسی مخصوص خطرے کا نام نہیں لیا گیا، تاہم یہ سفارتی و دفاعی سرگرمی یمن میں جاری لڑائی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور ترکی کی فورسز خطے میں موجود ہیں، لیکن ان کے مطابق اس وقت براہ راست جنگی کارروائیوں میں سعودی فوج حصہ لے رہی ہے جبکہ پاکستانی اور ترک کردار معاون نوعیت کا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق پاکستان بعض معاون سرگرمیوں، جن میں نگرانی اور معلوماتی تعاون شامل ہوسکتا ہے، میں کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے فوجیوں کی تعداد، مخصوص یونٹس، تعیناتی کے مقامات یا قواعدِ کار کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس لیے دستیاب معلومات کو سرکاری بیانات کی حد تک ہی سمجھنا چاہیے۔
موجودہ صورتحال میں اہم فرق یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی سعودی عرب میں پرانی موجودگی اور مکہ دفاعی اتحاد کے تحت ممکنہ نئی یا تیز تعیناتی ایک ہی چیز نہیں۔ حکام کے مطابق آئندہ اقدامات منظور شدہ انتظامات اور ہر رکن ملک کے قومی قوانین کے مطابق ہوں گے۔

