پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم اور صدر صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی یا گورنر راج کو ضروری سمجھیں تو ایسا اقدام نافذ کیا جاسکتا ہے۔ ان کا بیان صوبائی حکومت، وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کنڈی نے ماضی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مثالوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ بنیادی ترجیح صوبے کو محفوظ بنانا اور امن قائم کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ گورنر راج نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے یا اس کی کوئی مقررہ تاریخ طے کی گئی ہے۔

یہ فرق اہم ہے کیونکہ گورنر کا بیان ایک ممکنہ آئینی اقدام کے بارے میں سیاسی مؤقف ہے، کسی جاری سرکاری نوٹیفکیشن یا نافذ شدہ فیصلے کا اعلان نہیں۔ آئینی طریقہ کار کے تحت ایسے اقدامات کے لیے مخصوص شرائط اور وفاقی سطح پر فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

حالیہ دنوں میں وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کے تناظر میں صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی حکومت نے گورنر کی بعض سرگرمیوں اور اجلاسوں کو اپنے آئینی اختیارات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

فیصل کنڈی نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ یہ الزامات سیاسی طور پر متنازع ہیں اور صوبائی حکومت انہیں مسترد کرتی رہی ہے۔ اس لیے انہیں ثابت شدہ حقیقت کے بجائے گورنر اور وفاقی حلقوں کے مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

صورتحال میں سیاسی احتجاج، صوبائی خودمختاری، وفاقی اختیارات اور سکیورٹی پالیسی کے سوالات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ کسی بھی ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے اقدام کی اصل قانونی حیثیت اس وقت واضح ہوگی جب مجاز آئینی حکام باقاعدہ فیصلہ، سفارش یا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق معاملہ سیاسی بحث اور ممکنہ آپشن کی سطح پر ہے۔