کراچی: بحرین سے چار ہزار میٹرک ٹن مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے کر آنے والا بحری جہاز یلو اسٹون پورٹ قاسم پر پہنچ گیا ہے، جس سے ملک میں جاری رسدی دباؤ کے دوران درآمدی گیس کی دستیابی میں اضافہ متوقع ہے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی کے مطابق جہاز 24 اکتوبر کی صبح 8 بج کر 42 منٹ پر برتھ ہوا اور درآمدی کارگو کی ہینڈلنگ شروع کر دی گئی۔
یہ کھیپ ایسے وقت پاکستان پہنچی ہے جب ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں میں اضافے کے بارے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ ایل پی جی ان علاقوں میں گھریلو ایندھن کے طور پر خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں پائپ لائن قدرتی گیس دستیاب نہیں، جبکہ ہوٹل، دکانیں اور دیگر تجارتی صارفین بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ پورٹ قاسم اتھارٹی نے کہا ہے کہ درآمدی کارگو کی آمد ملکی گھریلو اور تجارتی توانائی ضروریات پوری کرنے میں بندرگاہ کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
بحری راستے سے آنے والی اس کھیپ کے ساتھ ایران سے زمینی تجارت کی بحالی بھی رسد کے لیے اہم پیش رفت ہے۔ گبد-ریمدان سرحدی گزرگاہ ایک ہفتے کی معطلی کے بعد دوبارہ کھولی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایل پی جی اور ضروری اشیا لے جانے والے رکے ہوئے ٹرکوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ دونوں راستوں سے اضافی رسد آنے سے مارکیٹ میں دستیابی بہتر ہو سکتی ہے۔
تاہم درآمدی کھیپ پہنچنے کا مطلب یہ نہیں کہ خوردہ قیمتیں فوری طور پر کم ہو جائیں گی۔ قیمتوں پر اثر کا انحصار کارگو اتارنے، ذخیرہ کرنے، ملک کے مختلف حصوں تک ترسیل، ڈیلر مارجن اور مجموعی مارکیٹ حالات پر ہوگا۔ حالیہ دنوں میں سرحدی تجارت میں تعطل اور توانائی منڈی کے دباؤ نے ایل پی جی صارفین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کی تھی۔
پورٹ قاسم پر چار ہزار ٹن کی تازہ کھیپ اس رسدی خلا کو محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن صارفین تک عملی ریلیف کا اندازہ آئندہ دنوں میں تقسیم اور خوردہ نرخوں کے رجحان سے ہوگا۔ حکام اور مارکیٹ شرکا کے لیے اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا سمندری درآمدات اور ایران سے زمینی رسد مل کر طلب کے مقابلے میں کافی مقدار فراہم کر پاتی ہیں یا نہیں۔
