باجوڑ: خار تھانے کی حدود میں واقع جہانگیر آباد سے 14 مارٹر گولے برآمد کیے گئے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق کارروائی سرکل ڈی ایس پی خار سعید الرحمٰن کی نگرانی میں کی گئی اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے گولوں کو محفوظ طریقے سے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ گولے شرپسند عناصر نے چھپا رکھے تھے اور بروقت کارروائی سے ممکنہ جانی و مالی نقصان ٹل گیا۔ تاہم رپورٹ میں کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری، گولوں کے ممکنہ ہدف، انہیں وہاں رکھنے کے وقت، ان کی تکنیکی حالت یا ماخذ کے بارے میں کوئی حتمی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے برآمدگی کو کسی مخصوص منصوبے، گروہ یا فرد سے قطعی طور پر جوڑنا دستیاب معلومات سے ممکن نہیں۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کے گولوں کو محفوظ تحویل میں لینے کے بعد مزید قانونی کارروائی شروع کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ قانونی کارروائی میں برآمد شدہ مواد کی تکنیکی جانچ، جائے برآمدگی کے شواہد اور ممکنہ ذمہ داروں سے متعلق تفتیش شامل ہوسکتی ہے، مگر رپورٹ نے ان مراحل کے نتائج بیان نہیں کیے۔ انکوائری مکمل ہونے سے پہلے پولیس کے ابتدائی بیان اور ثابت شدہ عدالتی نتیجے میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر باجوڑ خان زیب مہمند نے کہا کہ پولیس تخریبی سرگرمیوں کو ناکام بنانے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنے گرد و پیش میں مشکوک سامان، سرگرمی یا نقل و حرکت دیکھنے کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
ایسے دھماکا خیز یا فوجی نوعیت کے مواد کے قریب جانا، اسے چھونا یا خود منتقل کرنے کی کوشش خطرناک ہوسکتی ہے۔ پولیس کی عوامی ہدایت کا عملی مطلب یہی ہے کہ مشتبہ چیز سے فاصلہ رکھا جائے، دوسروں کو قریب جانے سے روکا جائے اور مجاز اداروں کو مقام کی درست اطلاع دی جائے۔
اس واقعے میں کسی دھماکے، زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ خبر کا تصدیق شدہ دائرہ 14 مارٹر گولوں کی پولیس کے مطابق برآمدگی، بم ڈسپوزل اسکواڈ کی کارروائی اور جاری قانونی تفتیش تک محدود ہے۔ کسی فرد یا گروہ کی ذمہ داری کا دعویٰ ثبوت اور باضابطہ کارروائی کے بغیر نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




