عید میلاد النبی کے موقع پر کراچی، راولپنڈی اور پشاور کی انتظامیہ اور پولیس نے جلوسوں، مذہبی اجتماعات اور ٹریفک کے لیے الگ الگ حفاظتی منصوبے جاری کیے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 4,208 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور اہم راستوں کی نگرانی سی سی ٹی وی کے ذریعے کرنے کا انتظام کیا گیا۔ حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مقررہ راستوں، ٹریفک ہدایات اور سکیورٹی اہلکاروں کی رہنمائی پر عمل کریں۔
کراچی میں دوپہر دو بجے کے بعد تین بڑے جلوسوں کا پروگرام بتایا گیا، جن میں مرکزی جلوس میمن مسجد سے روانہ ہوکر نشتر پارک پہنچے گا۔ جلوسوں کے دوران مختلف مقامات پر سڑکیں مرحلہ وار بند یا موڑ دی جائیں گی۔ متبادل راستوں کی تفصیل مقامی ٹریفک پولیس کے اعلانات کے مطابق بدل سکتی ہے، اس لیے سفر سے پہلے تازہ معلومات دیکھنا ضروری ہے۔ ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے راستہ کھلا رکھنے کی ہدایت بھی انتظامات کا اہم حصہ ہے۔
راولپنڈی میں 910 سے زائد ٹریفک اہلکاروں کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور شہر میں 120 جلوسوں کی نگرانی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مری روڈ اور ملحقہ راستوں پر جلوس کے اوقات میں بندش اور متبادل راستے نافذ ہوں گے۔ جلوس کے راستوں کے 300 گز کے اندر پارکنگ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سکیورٹی اور آمدورفت کے مسائل کم کیے جاسکیں۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر مؤخر کرنے اور ممنوعہ مقامات پر گاڑی کھڑی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پشاور میں چار ایس پیز، 12 ڈی ایس پیز اور تقریباً 600 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام نے ہنگامی رابطے کے لیے 1915 ہیلپ لائن بھی بتائی ہے۔ جلوسوں کے راستوں پر عارضی ناکے، تلاشی اور ٹریفک کنٹرول کے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ ان انتظامات کا مقصد عبادت اور اجتماعات کو محفوظ بنانا ہے، مگر کامیابی شہری تعاون، ہنگامی راستوں کی پابندی اور مشتبہ صورت حال کی بروقت اطلاع پر بھی منحصر ہوگی۔
یہ منصوبے اعلان کے وقت دستیاب تفصیلات پر مبنی ہیں اور موسم، ہجوم یا سکیورٹی صورت حال کے باعث راستوں میں فوری تبدیلی ہوسکتی ہے۔ مسافروں کو اپنے شہر کی ٹریفک پولیس کے تازہ اعلانات دیکھنے، اضافی وقت رکھنے اور افواہوں کے بجائے سرکاری ہیلپ لائن استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بندش کو مستقل سمجھنے کے بجائے جلوس گزرنے کے بعد جاری ہونے والی بحالی کی اطلاع کا انتظار کیا جائے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




