لندن: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان ہاؤس میں پاکستانی نژاد برطانوی پارلیمان کے بین الجماعتی وفد سے ملاقات کی ہے۔ دی نیشن نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اجلاس میں پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات، علاقائی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔

وفد میں لارڈز ضمیر چوہدری، قربان حسین اور شفق محمد، بیرونس شائستہ شہان اور برطانوی پارلیمان کے اراکین محمد یاسین، یاسمین قریشی، افضل خان، زبیر احمد اور عدنان حسین شامل تھے۔ ڈار نے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے میں ان قانون سازوں کے کردار اور جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے ان کی حمایت کو سراہا۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی قانون سازوں نے مشرق وسطیٰ میں امن اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔ اسحاق ڈار نے انہیں خطے میں جاری پاکستانی رابطوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ دیرپا امن کے لیے تمام فریقوں کا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل ضروری ہے۔ یہ پاکستانی وزیر خارجہ کا بیان ہے؛ متعلقہ تمام فریقوں کی مشترکہ تعمیل یا کسی حتمی نتیجے کی تصدیق نہیں۔

ڈار نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ اس کی نوعیت دفاعی ہے۔ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ سیاسی پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ وفد کے ارکان نے حالیہ قانون ساز اسمبلی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کامیابی پر ڈار کو مبارک باد دی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے معاشی ترقی کے سابقہ ریکارڈ کی بنیاد پر مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے نئی حکومت کے لیے سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نوجوانوں کے روزگار کو ترجیحات بتایا اور کہا کہ وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتیں حکمرانی اور آئینی امور پر دیگر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے پاکستان برطانیہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کسی نئے معاہدے، مالی پیکیج، قانونی تبدیلی یا طے شدہ آئندہ اجلاس کا اعلان شامل نہیں، اس لیے پیش رفت کو سفارتی ملاقات اور زیر بحث موضوعات تک محدود رکھا گیا ہے۔ سیاسی دعووں اور انتخابات سے متعلق آرا کو بھی متعلقہ مقررین ہی سے منسوب کیا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک