اسلام آباد/کوئٹہ: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، آئی ایس پی آر، نے کہا ہے کہ بلوچستان کے چار اضلاع میں 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران کی گئی متعدد انٹیلی جنس بنیاد کارروائیوں میں مجموعی طور پر 48 دہشت گرد مارے گئے۔ یہ تعداد اور کارروائیوں کی تفصیل فوج کے سرکاری بیان پر مبنی ہے اور متعلقہ علاقوں سے اس کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تازہ کارروائیاں مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں کی گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ 4 ستمبر کو مستونگ میں مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں چھ افراد مارے گئے۔ کوئٹہ کے علاقے شعبان میں چار ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا جہاں، فوج کے مطابق، فائرنگ کے تبادلے میں 26 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ قلات میں ایک الگ چھاپے کے دوران دو افراد مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔
فوجی بیان میں مزید کہا گیا کہ ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں مقامی آبادی کے تعاون سے پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش ناکام بنائی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور مارے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران اسلحے، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بارودی مواد کا ذخیرہ بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے تازہ مرحلے میں 36 ہلاکتوں کی تفصیل بیان کی، جبکہ 2 ستمبر کو قلات میں ہونے والی ایک پہلے کی کارروائی میں 12 دہشت گردوں کے مارے جانے کا کہا گیا تھا۔ یوں فوج نے 48 سے 72 گھنٹوں کے مجموعی دورانیے میں ہلاکتوں کی تعداد 48 بتائی ہے۔ بیان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور تلاشی کی سرگرمیاں جاری ہیں تاکہ کسی اور مسلح شخص کی موجودگی کا پتا چلایا جا سکے۔
سرکاری بیان میں مارے گئے افراد کو ’’فتنہ الہندوستان‘‘ اور ’’فتنہ الخوارج‘‘ سے وابستہ اور بھارت کے حمایت یافتہ قرار دیا گیا۔ بھارت سے تعلق یا سرپرستی کا یہ الزام پاکستانی حکام کا مؤقف ہے؛ اس رپورٹ میں اس دعوے کی کوئی الگ آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔ کارروائیوں میں سکیورٹی اہلکاروں یا شہریوں کے جانی نقصان کا ذکر جاری کردہ تفصیل میں نہیں کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بالخصوص قلات کی کارروائی میں شریک سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دہشت گردی کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تناظر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔




