نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بلوچستان میں جولائی 2026 کے کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق ہونے والے 34 کان کنوں کے لواحقین میں امدادی چیک تقسیم کیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت سے کی گئی اور ہر متاثرہ خاندان کو 20 لاکھ روپے کا چیک دیا گیا۔
این ڈی ایم اے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ امدادی چیک خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ میں تقسیم کیے گئے۔ ٹیم نے مقامی نمائندے ڈاکٹر عباد اللہ کی معاونت سے لواحقین تک رقوم پہنچائیں۔ رپورٹ کے اعداد کے مطابق 34 خاندانوں کے لیے فی خاندان 20 لاکھ روپے رکھے گئے، تاہم خبر میں ادائیگی کے بینک، کلیئرنس کی مدت یا کسی اضافی صوبائی پیکیج کی تفصیل شامل نہیں۔
وفاقی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی اور مشکل وقت میں معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مالی امداد جانی نقصان کا متبادل نہیں اور نہ ہی اس سے کان میں حادثے کی وجوہ، حفاظتی ذمہ داری یا ممکنہ قانونی کارروائی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ خبر صرف اعلان شدہ اور تقسیم کیے گئے امدادی چیکوں سے متعلق ہے۔
کوئلہ کانوں میں حادثات کے بعد دو الگ پہلو اہم رہتے ہیں: فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کی مدد، اور حادثے کے اسباب و حفاظتی نظام کی جانچ۔ ایکسپریس کی اس رپورٹ میں انکوائری رپورٹ، کان کی ملکیت، تکنیکی خرابی یا ذمہ داری کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں دیا گیا، اس لیے ایسے کسی سبب کو خبر میں قیاس کے طور پر شامل نہیں کیا جا سکتا۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے اگلا عملی مرحلہ چیکوں کی وصولی اور قابلِ استعمال ادائیگی ہے۔ اگر این ڈی ایم اے یا بلوچستان حکومت حادثے کی تحقیقات، زخمیوں، مزید معاوضے یا کان کنی کے حفاظتی اقدامات سے متعلق الگ دستاویز جاری کرتی ہے تو وہ اس واقعے کی مزید پیش رفت ہوگی۔ موجودہ تصدیق شدہ اطلاع 34 خاندانوں میں فی خاندان 20 لاکھ روپے کے چیکوں کی تقسیم ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




