گوادر: بلوچستان حکومت نے گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے اور بنیادی شہری سہولتوں سے متعلق اسکیموں کے لیے اضافی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی میر ظہور بلیدی کی زیر صدارت گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شہری بحالی، پانی کی فراہمی، تعلیم، کھیلوں اور بلدیاتی سہولتوں سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں جی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں، اولڈ ٹاؤن ری ہیبلی ٹیشن پروجیکٹ، پانی کی تقسیم کے نظام، میونسپل سروسز اور ادارے کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق اولڈ ٹاؤن منصوبے کے تحت سڑکوں، گلیوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، قبرستانوں، عیدگاہوں اور ٹریفک چوراہوں کی تعمیر، توسیع، بحالی اور خوبصورتی کے کام کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں شہر کی پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ ایک سال کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے شادی کور پمپنگ اسٹیشن کے لیے علیحدہ بجلی فیڈر سے متعلق پی سی ون دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ ایندھن کے بڑھتے اخراجات کم کیے جا سکیں۔ صوبائی حکومت نے اس منصوبے کے مالی تقاضوں میں معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔
حکام کو گوادر میں نئے اسپورٹس کمپلیکس کے لیے پی سی ون تیار کرنے اور اولڈ ٹاؤن بحالی منصوبے کے اگلے مرحلے میں ٹی ٹی سی کالونی، بخشی کالونی، شمبے اسماعیل وارڈ اور فقیر کالونی کے لیے نئی ترقیاتی اسکیمیں مرتب کرنے کا کہا گیا۔ جی ڈی اے اسکول کی تعلیمی کارکردگی، نصاب، اساتذہ کی تقرری اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں۔
جی ڈی اے کے مطابق ادارہ شہر میں 250 کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں، نکاسی آب کے درجنوں کلومیٹر طویل نظام، پارکس، کھیلوں کی سہولتوں، اسپتال، اسکول اور فش لینڈنگ جیٹی سمیت متعدد شہری اثاثوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اجلاس میں منصوبوں کے معیار، شفافیت اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ جاری اسکیموں کے فوائد شہریوں تک جلد پہنچائے جائیں۔ اعلان میں تمام منصوبوں کے لیے نئی مجموعی لاگت یا حتمی تکمیل کی تاریخیں جاری نہیں کی گئیں۔
