اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ خیبرپختونخوا سے وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہزاروں کارکن اس احتجاجی مارچ میں شریک ہیں اور قافلے کی قیادت خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ مارچ اتوار 4 اکتوبر کو شروع ہوا اور مختلف مقامات پر قیام کے بعد اسلام آباد پہنچنے کا منصوبہ ہے۔
سہیل آفریدی نے کارکنوں اور نوجوانوں سے مارچ میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ پی ٹی آئی کا مرکزی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے، جو مختلف مقدمات میں سزا پانے کے بعد جیل میں ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ان کے خلاف کئی مقدمات میں سزائیں معطل یا کالعدم ہو چکی ہیں، جبکہ ایک مقدمے میں سزا برقرار ہے اور اپیلیں زیر سماعت ہیں۔ عمران خان خود کو سیاسی قیدی قرار دیتے ہیں، جب کہ وفاقی حکومت اور فوج اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں اور عدالتی عمل کی آزادی پر زور دیتے ہیں۔
مارچ پہلے 27 ستمبر کے لیے مقرر تھا لیکن حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی پیش کش کے بعد اسے مؤخر کیا گیا۔ مذاکرات ہفتے کے اختتام پر ناکام ہو گئے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق اختلاف کا ایک اہم نکتہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر تعاون تھا، جبکہ پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس پر غیر منصفانہ دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دارالحکومت اور اس کے اطراف ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری علاقے، پارلیمان، وزیر اعظم ہاؤس اور سفارتی زون کی جانب جانے والی سڑکوں پر شپنگ کنٹینرز بھی لگائے گئے ہیں۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ امن و امان میں خلل کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی بدستور شدید ہے۔ سابق وزیر اعظم کی 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ذریعے برطرفی اور مئی 2023 میں گرفتاری کے بعد تعلقات مزید خراب ہوئے تھے۔ مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور بعض ملزمان کو فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی گئیں۔ موجودہ مارچ کے دوران کسی بھی نئی جھڑپ یا قانونی کارروائی کے بارے میں حتمی صورت حال متعلقہ حکام اور عدالتوں کے فیصلوں سے واضح ہو گی۔
