اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی عدم موجودگی اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر پولیس حکام سے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اور جوڈیشل کمپلیکس کے سکیورٹی انچارج کو طلب کیا اور تفتیشی افسر کی مصروفیت یا مقام کے بارے میں زبانی وضاحت کے بجائے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی لیگل نعیم یوسف نے ابتدا میں عدالت کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق تفتیشی افسر شہر سے باہر ہیں۔ بعد میں پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ افسر گلگت بلتستان میں ہیں اور اس دعوے کی تائید میں واٹس ایپ پیغام کا پرنٹ آؤٹ پیش کیا گیا، تاہم عدالت نے اصل دستاویز طلب کی۔ جج نے متنبہ کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس پی کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے اس صورتحال پر تفصیلی حکم لکھوانے کا بھی عندیہ دیا۔
دفاعی وکیل ریاست علی آزاد نے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ کے سوا دیگر دفعات قابل ضمانت ہیں اور چونکہ عدالت پہلے ہی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر چکی ہے، اس لیے تفتیشی افسر کی عدم موجودگی کو ضمانت کی کارروائی میں تاخیر کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔ استغاثہ کی جانب سے کہا گیا کہ تفتیشی ریکارڈ افسر کی غیرحاضری کے باعث دستیاب نہیں ہے۔ یہ فریقین کے قانونی موقف ہیں اور حتمی عدالتی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج سے متعلق مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں ان پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بند کرنے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ملزمان کے خلاف الزامات ابھی عدالتی جانچ کے مرحلے میں ہیں، اس لیے انہیں ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے موجودہ ضمانت سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے، جس کے بعد ریکارڈ اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید کارروائی متوقع ہے۔
