اسلام آباد: پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 دو روزہ اجلاس کے بعد اختتام پذیر ہو گئی، جہاں وفاقی حکومت نے قومی ذہنی صحت پالیسی کے عملی نفاذ، بنیادی صحت مراکز میں ذہنی صحت خدمات کے انضمام اور بچوں و نوجوانوں کے لیے اسکول پر مبنی پروگرامز کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے صوبوں اور وفاقی اکائیوں سے کہا ہے کہ وہ پالیسی اور متعلقہ وعدوں کی تحریری توثیق 45 دن کے اندر فراہم کریں۔
حکومت کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، جبکہ علاج تک رسائی کا خلا تقریباً 95 فیصد بتایا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ذہنی بیماری قابل علاج ہے، مگر بروقت اور مقامی سطح پر دستیاب خدمات نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ رسمی دیکھ بھال سے محروم رہتے ہیں۔
سمٹ میں قومی ذہنی صحت پالیسی کے اجرا کے ساتھ بچوں اور نوجوانوں کے لیے اسکولوں کے ذریعے قومی پروگرام شروع کرنے اور اسلام آباد ڈیکلریشن فار گلوبل مینٹل ہیلتھ کو اپنانے کا ذکر کیا گیا۔ حکومتی منصوبے کے مطابق ذہنی صحت کو بنیادی صحت کی دیکھ بھال، تعلیمی اداروں، بجٹ، فوائد کے پیکیجز اور صحت کے ڈیٹا سسٹمز میں زیادہ منظم انداز سے شامل کرنا ہے۔
وزیر مملکت نے ایک نیشنل ہب آف ایکسیلنس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جو صوبائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر شواہد کو پالیسی میں تبدیل کرنے، تربیت، تکنیکی رہنمائی اور ذہنی صحت کی افرادی قوت مضبوط بنانے کے لیے پلیٹ فارم کا کردار ادا کرے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگلے 12 ماہ کے اندر صوبوں کی مشاورت سے ایک لاگت شدہ، وقت مقررہ اور مانیٹرنگ پر مبنی عملی منصوبہ تیار کیا جائے گا۔
اگلے دو سے تین برس کے لیے تین ترجیحات بیان کی گئی ہیں: بنیادی اور کمیونٹی سطح پر ذہنی صحت خدمات کی توسیع، ذہنی صحت کے ماہرین اور اسکول سائیکالوجسٹس سمیت افرادی قوت میں اضافہ، اور قانون، بجٹ و سرکاری صحت نظام میں ذہنی صحت کو زیادہ واضح جگہ دینا۔
سمٹ میں وفاقی و صوبائی حکام، عالمی اداروں، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، ماہرین، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ذہنی صحت کے تجربے رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ حکومت نے WHO، UNICEF اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعاون کا ذکر کیا ہے۔
یہ اعلانات پالیسی اور عمل درآمد کے عزم سے متعلق ہیں؛ 45 روز کی صوبائی توثیق، نیشنل ہب کا قیام اور 12 ماہ کا عملی منصوبہ ابھی آگے کے مراحل ہیں۔ ان کی کامیابی کا جائزہ بجٹ، صوبائی شمولیت، عملے کی دستیابی، بنیادی مراکز میں خدمات کے پھیلاؤ اور مریضوں کی حقیقی رسائی کے قابل پیمائش نتائج سے ہو گا۔
