پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے دو الگ آپریشنز میں مجموعی طور پر 17 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ کارروائی کے دوران ایک پاکستانی فوجی شہید ہوا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات پر کچھی میں کارروائی کی جہاں فائرنگ کے تبادلے کے بعد 10 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک دوسری انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی خاران میں کی گئی، جہاں سرکاری بیان کے مطابق مزید سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ بیان میں ان افراد کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے؛ آزاد ذرائع سے ان کی شناخت اور تمام آپریشنل تفصیلات کی الگ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔

فوج کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی حکمت اللہ نے جان دے دی۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ کارروائیوں کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن سرگرمیاں بھی کی گئیں تاکہ کسی دوسرے مسلح عنصر کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکے۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے جاتے رہے ہیں۔

بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ صوبے میں سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات اور شہری اہداف کے خلاف حملوں کے واقعات کے بعد فورسز مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ ہر واقعے میں ہلاکتوں اور ذمہ داری سے متعلق سرکاری دعووں کو اسی نسبت سے بیان کرنا ضروری ہے، کیونکہ بعض واقعات کی آزادانہ تصدیق محدود ہوتی ہے۔

تازہ کارروائیوں کے بارے میں دستیاب تصدیق شدہ معلومات کا بنیادی ذریعہ آئی ایس پی آر کا بیان ہے، جسے پاکستانی اخبارات نے رپورٹ کیا۔ بیان کے مطابق دونوں آپریشنز میں 17 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور سپاہی حکمت اللہ شہید ہوئے۔ حکام نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی صورت میں ہلاکتوں کی شناخت اور کارروائی کے دائرہ کار کی مزید وضاحت ممکن ہوگی۔