اسلام آباد: پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فعاذ ایئر ٹو ایئر میزائل کا پہلا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تجربہ ملکی فضائی اور دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے اور میزائل کو جدید ٹرمینل گائیڈنس نظام سے لیس کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فعاذ میزائل دشمن کے فضائی اہداف کو نسبتاً طویل فاصلے پر نشانہ بنانے کی صلاحیت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس نظام کی شمولیت سے پاکستان ایئر فورس کی آپریشنل لچک میں اضافہ ہوگا اور ملک کی مجموعی دفاعی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ بیان میں میزائل کی مکمل تکنیکی رینج، رفتار یا پلیٹ فارم سے متعلق تمام تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں غیر مصدقہ اندازے اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
فوجی بیان میں کہا گیا کہ کامیاب فلائٹ ٹیسٹ پاکستان کی دفاعی صنعت میں حاصل ہونے والی تکنیکی پختگی، جدت اور مقامی سطح پر صلاحیت پیدا کرنے کی کوششوں کا مظہر ہے۔ تجربے کے موقع پر مسلح افواج کے سینئر افسران کے ساتھ وہ سائنس دان اور انجینئر بھی موجود تھے جنہوں نے میزائل نظام کی تیاری میں کردار ادا کیا۔
صدر مملکت، وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز اور مسلح افواج کے سروس چیفس نے کامیاب تجربے پر سائنس دانوں اور انجینئرز کو مبارک باد دی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اسے دفاعی شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے ملکی سائنس دانوں اور انجینئرز کی کوششوں کو سراہا۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان حالیہ عرصے میں مقامی طور پر تیار کردہ مختلف میزائل نظاموں کے تجربات کر چکا ہے۔ ان میں فتح سیریز کے زمینی ہدف کو نشانہ بنانے والے نظام بھی شامل ہیں۔ تاہم فعاذ کی نوعیت ان سے مختلف ہے کیونکہ اسے فضائی ہدف کے خلاف استعمال ہونے والے ایئر ٹو ایئر میزائل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
میزائل کی کارکردگی، ہدف کو نشانہ بنانے کی عملی حدود اور مستقبل میں اس کی تعیناتی سے متعلق معلومات فی الحال آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان تک محدود ہیں۔ آزاد ذرائع سے میزائل کے تمام تکنیکی دعوؤں کی الگ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے اس رپورٹ میں صلاحیتوں سے متعلق تفصیلات سرکاری مؤقف کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔ کامیاب فلائٹ ٹیسٹ کے بعد اگلے مراحل، ممکنہ سیریل پروڈکشن یا پاکستان ایئر فورس میں باقاعدہ شمولیت کا کوئی تفصیلی شیڈول بھی جاری نہیں کیا گیا۔
