اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں منگل کے روز ان کے ایک قریبی رشتہ دار اور متعدد وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی، حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت منگل اور جمعرات ملاقات کے لیے مقررہ دن ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت اس کے ایک روز بعد سامنے آئی جب عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کو سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ایک مقدمے کے سلسلے میں قانونی مشاورت کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈووکیٹ اویس یونس چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ عمران خان کی بہن عظمیٰ خانم کے بیٹے عبداللہ خان خاندان کے رکن کی حیثیت سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم جیل حکام نے انہیں اجازت نہیں دی۔ ان کے مطابق ملاقات کے لیے پیش کی گئی فہرست میں شامل پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور دیگر وکلا بھی جیل پہنچے لیکن وہ بھی سابق وزیراعظم سے ملاقات نہ کرسکے۔ رپورٹ میں جیل انتظامیہ کا تفصیلی مؤقف شامل نہیں تھا، اس لیے ملاقات نہ ہونے کی وجہ کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے قبل عمران خان کو ہفتے میں دو مرتبہ اہل خانہ، وکلا اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقات کی اجازت دے چکی ہے۔ حالیہ مہینوں میں پی ٹی آئی بارہا شکایت کرتی رہی ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتوں پر پابندیاں عائد رہتی ہیں۔ عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی ستمبر کے اواخر سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر قانون کے تحت زیر حراست ہیں۔

اسی دوران پی ٹی آئی کی قیادت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومت کے خلاف کسی مشترکہ سیاسی جدوجہد میں ممکنہ تعاون کے امکان پر مثبت ردعمل دیا۔ سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پارٹی کسی شخصیت کو اپنا نجات دہندہ قرار نہیں دے رہی، تاہم جو سیاسی قوت حکومت کے خلاف جدوجہد میں ساتھ دینا چاہے اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی دوسری جماعت پر انحصار نہیں کرتی، لیکن اپنے سیاسی قافلے کو وسیع کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ عمران خان خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے خوش تھے یا صوبائی حکومت کے خاتمے کے خواہاں تھے۔ ان کے مطابق سلمان صفدر کی ملاقات میں اس معاملے پر تفصیلی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا تھا اور اس کے لیے صوبائی حکومت کی انسداد دہشت گردی اقدامات سے مبینہ عدم تعاون کو وجہ قرار دیا تھا؛ پی ٹی آئی اس اقدام کی مخالفت کرتی ہے۔ موجودہ بیانات ممکنہ پی ٹی آئی۔جے یو آئی ف تعاون کی طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں، تاہم کسی باقاعدہ اتحاد یا مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان تاحال سامنے نہیں آیا۔