پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں پولیو مہم کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر مسلح افراد کے حملے میں دو اہلکار شہید ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعہ ضلع کے ایک علاقے میں اس وقت پیش آیا جب اہلکار انسداد پولیو سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی فرائض انجام دے رہے تھے۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد علاقے میں اضافی نفری طلب کرکے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ واقعے کے فوری بعد سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے اور متعلقہ مقامات پر پولیس کی تعیناتی بڑھائی گئی۔ حکام نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

ابتدائی اطلاعات میں حملے کی ذمہ داری کے بارے میں کوئی ایسی حتمی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر کسی مخصوص گروہ کو ذمہ دار قرار دیا جا سکے۔ اس لیے واقعے کو فی الحال پولیس اہلکاروں پر مسلح حملے کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ اگر تحقیقات میں کسی تنظیم یا افراد کے ملوث ہونے کی باقاعدہ تصدیق ہوتی ہے تو اس کی نوعیت الگ ہوگی۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور صحت کارکنوں کو ماضی میں بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔ بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں انسداد پولیو ٹیموں کے لیے پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں تاکہ گھر گھر ویکسینیشن کرنے والے کارکن محفوظ طریقے سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

حالیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسینیشن مہمات جاری ہیں۔ انسداد پولیو پروگرام بارہا والدین پر زور دیتا رہا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر مہم میں پولیو کے قطرے ضرور پلائے جائیں۔ صحت حکام کے مطابق بار بار ویکسینیشن بچوں کی قوت مدافعت برقرار رکھنے اور وائرس کی منتقلی روکنے کے لیے ضروری ہے۔

مہمند میں حملے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس کے لیے بنیادی ترجیح حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے ساتھ پولیو ٹیموں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اس لیے حملے کے محرکات، حملہ آوروں کی تعداد اور کسی ممکنہ تنظیمی تعلق کے بارے میں غیر مصدقہ دعوؤں کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔