اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے کچھی اور وڈھ اضلاع میں دو الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر نو دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ فوجی بیان کے مطابق یہ کارروائیاں 26 اکتوبر کو دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کچھی ضلع میں پہلے آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک مبینہ دہشت گرد ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں سات افراد ہلاک ہوئے جنہیں فوجی بیان میں دہشت گرد قرار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے بعد وہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

دوسری کارروائی وڈھ ضلع میں کی گئی، جہاں آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر انہیں روکا۔ اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور مزید دو دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فوجی بیان کے مطابق اس مقام سے بھی ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والوں کو بھارت کی سرپرستی میں سرگرم قرار دیا اور ان کے لیے ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ’فتنہ الہندوستان‘ استعمال کی۔ بھارت سے تعلق یا سرپرستی کا یہ دعویٰ پاکستانی فوجی حکام کا مؤقف ہے؛ دستیاب رپورٹ میں اس الزام کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

فوجی ترجمان کے مطابق دونوں علاقوں میں کسی ممکنہ مزید مسلح فرد کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان اور عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم جاری رکھی جائے گی۔

بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران عسکریت پسندانہ حملوں اور جوابی سکیورٹی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ موجودہ واقعے میں ہلاکتوں، مقام اور برآمدگی سے متعلق تفصیلات بنیادی طور پر آئی ایس پی آر کے بیان پر مبنی ہیں، اور رپورٹنگ میں انہی دعوؤں کو فوجی مؤقف کے طور پر منسوب کیا گیا ہے۔