راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے خاران اور واشک اضلاع میں دو الگ انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔ کارروائیاں 6 اور 7 ستمبر کو کی گئیں، جبکہ ان کی تفصیلات 9 ستمبر کو جاری کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 6 ستمبر کو خاران میں مسلح افراد نے سڑک پر رکاوٹ قائم کر کے مقامی آمدورفت متاثر کرنے کی کوشش کی۔ سکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر انہیں روکا اور فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ افراد کو ہلاک کیا۔ فوج نے ان افراد کو بھارت کی سرپرستی یافتہ گروہ سے وابستہ قرار دیا ہے۔ بھارت سے مبینہ تعلق یا سرپرستی کا یہ دعویٰ پاکستانی فوج کا موقف ہے اور اس خبر میں اسے اسی نسبت سے بیان کیا جا رہا ہے۔

بیان کے مطابق اگلے روز 7 ستمبر کو واشک ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں مزید تین دہشت گرد مارے گئے۔ اسی مقام سے تقریباً 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جس کے بارے میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسے دیسی ساختہ بموں کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ریڈیو پاکستان، ڈان اور دیگر پاکستانی خبر رساں اداروں نے آئی ایس پی آر کے بیان کی بنیاد پر ہلاکتوں اور برآمدگی کی یہی تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔ آزاد ذرائع سے کارروائی کے تمام زمینی پہلوؤں کی فوری طور پر الگ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے آپریشن، ہلاک افراد کی شناخت اور غیر ملکی سرپرستی سے متعلق دعوے سرکاری بیان سے منسوب ہیں۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں مزید ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس یا سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری ہیں۔ فوج نے انسداد دہشت گردی مہم جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ خاران اور واشک کی تازہ کارروائیاں اسی وسیع سکیورٹی پس منظر میں سامنے آئی ہیں۔ حکام کی جانب سے برآمد دھماکا خیز مواد کے بارے میں مزید فرانزک تفصیلات یا ہلاک افراد کی مکمل شناخت فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔