اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ مالی سال 2025-26 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے سالانہ گوشوارے 31 دسمبر 2026 تک جمع کرا دیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ قانونی تقاضا الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت لازم ہے اور مقررہ مدت میں گوشوارہ جمع نہ کرانے والے ارکان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے بیان کے مطابق گوشوارے میں رکن کے اپنے اثاثوں اور واجبات کے ساتھ شریکِ حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیل بھی شامل کرنا ہوگی۔ یہ معلومات 30 جون 2026 کی پوزیشن کے مطابق مقررہ فارم-بی پر فراہم کی جائیں گی۔ کمیشن نے تمام متعلقہ ارکان کو کہا ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر قانونی ذمہ داری بروقت پوری کریں۔
قانون کے تحت الیکشن کمیشن یکم جنوری 2027 کو ان ارکان کے نام شائع کرے گا جو 31 دسمبر کی آخری تاریخ تک اپنے گوشوارے جمع نہیں کرائیں گے۔ اگر کوئی رکن 15 جنوری تک بھی گوشوارہ داخل نہ کرے تو کمیشن 16 جنوری کو اس کی رکنیت معطل کرنے کا حکم جاری کرنے کا پابند ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ رکن اس وقت تک بطور رکن کام نہیں کر سکے گا جب تک وہ مطلوبہ اثاثہ جات اور واجبات کا بیان جمع نہ کرا دے۔
الیکشن ایکٹ میں غلط معلومات کے حوالے سے بھی الگ شق موجود ہے۔ اگر کسی رکن کا جمع کرایا گیا بیان مادی طور پر جھوٹی معلومات پر مشتمل پایا جائے تو اس کے خلاف بدعنوان عمل کے جرم کے تحت کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسی کارروائی گوشوارہ جمع ہونے کے 120 دن کے اندر قانون کے مطابق کی جا سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ فارم-بی اور متعلقہ ہدایات اس کے اسلام آباد سیکریٹریٹ، صوبائی الیکشن کمشنرز کے دفاتر، سینیٹ سیکریٹریٹ، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریٹس سے مفت حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ فارم الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔
اثاثوں اور واجبات کے سالانہ گوشواروں کا نظام منتخب نمائندوں کی مالی شفافیت اور قانونی جواب دہی کے فریم ورک کا حصہ ہے۔ موجودہ ہدایت نئی قانون سازی نہیں بلکہ پہلے سے موجود قانونی ذمہ داری کی سالانہ یاد دہانی اور نفاذی شیڈول ہے، جس کے تحت ہر رکن کو مقررہ فارم اور تاریخ کے مطابق معلومات جمع کرانا ضروری ہے۔




