کرک: خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں شتکئی ڈیم کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق حملہ منگل کی رات دیر گئے صابرآباد تھانے کی حدود میں معمول کی گشت کے دوران پیش آیا۔
ضلعی پولیس افسر کے ترجمان شوکت خان کے مطابق پولیس پارٹی علاقے میں گشت کر رہی تھی جب مسلح افراد نے اسے نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل زعفران جان سے گئے جبکہ کانسٹیبل محمد امتیاز کو گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوئے۔ دونوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمی اہلکار کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
حملے کے بعد ڈی پی او عمران خان کی قیادت میں پولیس کی بڑی نفری موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لیا اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق مختلف مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کی گئی تاکہ مشتبہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور حملہ آوروں کے فرار کے راستے محدود کیے جا سکیں۔
فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور پولیس نے حملہ آوروں کی شناخت کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ اس لیے واقعے کو اس مرحلے پر کسی مخصوص تنظیم سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔ تفتیش اور سرچ آپریشن جاری ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کرک سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں صوبے کے مرکزی اضلاع میں دہشت گرد حملوں کی تعداد جولائی کے مقابلے میں بڑھی تھی، اگرچہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے بعض مجموعی اعداد میں کمی بھی دیکھی گئی۔
کرک میں اگست کے دوران بھی پولیس گشتی گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں ایک اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ تازہ حملے کی نوعیت فائرنگ کی ہے اور پولیس نے ابھی تک اس کے محرک، استعمال ہونے والے ہتھیاروں یا حملہ آوروں کی تعداد کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی۔




