وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کی معدنی اور قدرتی دولت سے فائدہ اٹھانے کا پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے پہاڑوں اور زمین میں موجود معدنی وسائل کو عوامی فلاح اور قومی ترقی سے جوڑنے کے لیے سرمایہ کاری، فنی مہارت اور مناسب وسائل درکار ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مکران، لسبیلہ، چمن یا بلوچستان کے کسی بھی دوسرے حصے میں رہنے والے لوگوں کو صوبے کی دولت کے فوائد میں ترجیح ملنی چاہیے۔ یہ ایک پالیسی بیان اور سیاسی عزم ہے؛ موجودہ رپورٹ میں کسی نئی رائلٹی شرح، آمدنی تقسیم کے فارمولے، مخصوص کان کنی لائسنس یا فنڈ کی منظوری کا اعلان شامل نہیں۔ عملی اثر تب واضح ہوگا جب وفاقی اور صوبائی حکومتیں قابلِ پیمائش منصوبے اور مالی انتظام سامنے لائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ معدنی دولت نکالنے کے لیے سرمایہ اور مہارت کی ضرورت ہوگی اور بلوچستان و وفاقی حکومت کو مل کر ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس سے فائدہ پہلے مقامی آبادی اور پھر پورے ملک تک پہنچے۔ سرمایہ کاری لاتے وقت زمین، پانی، ماحول، مقامی روزگار، نقل مکانی اور شفاف معاہدوں سے متعلق تحفظات بھی اہم ہوں گے، اگرچہ تقریر کی رپورٹ میں ان تمام معاملات کی تفصیلی پالیسی بیان نہیں کی گئی۔
وزیراعظم نے تعلیم، اسپتالوں اور سڑکوں کی ضرورت کو بھی بلوچستان کے بڑے ترقیاتی چیلنجوں میں شمار کیا۔ وسیع رقبے اور منتشر آبادی کے باعث بنیادی خدمات کی فراہمی کے لیے صرف معدنی منصوبے کافی نہیں ہوں گے؛ آمدنی کی منصفانہ تقسیم، مقامی اداروں کی صلاحیت اور منصوبوں کی نگرانی بھی ضروری ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے مسائل کے حل کے لیے باہمی اتفاق اور دستیاب وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا۔
بلوچستان میں تانبے، سونے، کرومائٹ، اینٹی منی اور ممکنہ نایاب زمینی عناصر کے ذخائر کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ڈان نے ریکوڈک کو دنیا کے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے کے ذخائر میں شمار کرتے ہوئے اس کے منصوبے کا پس منظر بھی بیان کیا، لیکن اس خبر کا مرکزی نیا واقعہ وزیراعظم کا مقامی آبادی کے پہلے حق اور مشترکہ ترقیاتی طریقۂ کار سے متعلق بیان ہے۔
اردو ہیڈ لائنز اس اعلان کو نتائج کی ضمانت کے بجائے حکومتی سمت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ جب رائلٹی، مقامی ملازمت، سماجی ترقیاتی اخراجات، ماحول کے تحفظ یا کسی نئے معدنی منصوبے کی باضابطہ شرائط سامنے آئیں گی تو اسی خبر کو ٹھوس تفصیلات کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




