پاکستان اور ملائیشیا نے سزا یافتہ افراد کی منتقلی سے متعلق باہمی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق معاہدے پر ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں دستخط کیے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس نوعیت کا معاہدہ عموماً دونوں ملکوں میں سزا کاٹنے والے اہل افراد کی وطن منتقلی کے لیے قانونی اور انتظامی فریم ورک فراہم کرتا ہے، لیکن موجودہ رپورٹ میں اہلیت کی مکمل شرائط، درخواست کا طریقہ، جرائم کی شامل یا خارج اقسام، عدالتی منظوری، رضامندی اور منتقلی کے وقت کا تفصیلی متن نہیں دیا گیا۔ اس لیے دستخط کو کسی مخصوص قیدی کی فوری رہائی، سزا ختم ہونے یا خودکار منتقلی کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے ملائیشین وزیر داخلہ سے ملاقات میں قانون نافذ کرنے، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ ان موضوعات پر رابطے دونوں ملکوں کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کا حصہ ہیں، مگر سزا یافتہ افراد کی منتقلی کا معاہدہ اپنی نوعیت میں الگ قانونی انتظام ہے جس پر عمل درآمد متعلقہ وزارتوں، عدالتوں اور مجاز حکام کے طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے بعد ازاں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی اور تعاون کے معاملات زیر بحث آنے کی اطلاع دی گئی۔ اردو ہیڈ لائنز ان ملاقاتوں کو ایک ہی دورے کے سفارتی تناظر میں بیان کر رہا ہے، تاہم دفاعی یا سلامتی گفتگو کی ایسی تفصیلات خبر میں موجود نہیں جن سے کوئی نیا آپریشنل نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔
معاہدے کی عوامی اہمیت خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے ہوگی جن کا کوئی رکن دوسرے ملک میں سزا کاٹ رہا ہے۔ انہیں درخواست دینے سے پہلے معاہدے کے باقاعدہ نفاذ، دونوں حکومتوں کی منظوری، قیدی کی رضامندی، باقی سزا اور متعلقہ قانون کی شرائط دیکھنا ہوں گی۔ غیر سرکاری ایجنٹ کی طرف سے فوری منتقلی یا رہائی کا وعدہ معتبر سرکاری تصدیق کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے۔
اس وقت تصدیق شدہ پیش رفت معاہدے پر دستخط تک محدود ہے۔ جب وزارت داخلہ یا متعلقہ سفارتی ادارے معاہدے کا متن، مؤثر ہونے کی تاریخ، درخواست کا طریقہ یا پہلی منتقلی کی تفصیل جاری کریں گے تو اسی واقعے کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔




