اسلام آباد/کوئٹہ: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران کی گئی متعدد انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 48 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ فوجی بیان کے مطابق تازہ کارروائیاں مستونگ، کوئٹہ، قلات اور بھگ کے علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جبکہ بعض مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں کا مسلح افراد سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مستونگ میں مشتبہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی کے بعد انہیں روکا گیا اور فائرنگ کے تبادلے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے مقام سے گولہ بارود اور دیسی ساختہ بارودی آلات کا ذخیرہ بھی ملا جسے موقع پر تباہ کر دیا گیا۔ کوئٹہ کے علاقے شعبان میں ایک الگ انٹیلی جنس بنیاد کارروائی کے دوران چار مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی اور فوجی ترجمان کے بقول وہاں 26 دہشت گرد مارے گئے۔
فوجی بیان میں مزید کہا گیا کہ قلات میں ایک ٹھکانے کے خلاف کارروائی کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بھگ کے علاقے میں مقامی پولیس اسٹیشن پر حملے کی کوشش سکیورٹی فورسز اور مقامی آبادی کے فوری ردعمل سے ناکام بنائی گئی اور دو حملہ آور مارے گئے۔ اس مجموعی تعداد میں قلات میں 2 ستمبر کو ہونے والی ایک سابقہ کارروائی میں ہلاک کیے گئے 12 افراد بھی شامل ہیں۔ یوں آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعداد کے مطابق مختلف کارروائیوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 48 بنتی ہے۔
آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والوں کو کالعدم اور مبینہ طور پر بیرونی سرپرستی رکھنے والے گروہوں سے منسلک قرار دیا۔ بھارت سے تعلق یا سرپرستی کے بارے میں دعویٰ فوجی بیان کا حصہ ہے؛ اس کی آزاد ذرائع سے الگ تصدیق یا ہلاک افراد کی مکمل شناخت کی تفصیل فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ممکنہ باقی عناصر کی تلاش کے لیے کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کارروائیاں جاری ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ بیانات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حکام کے مطابق کارروائیاں قومی ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ عزمِ استحکام پالیسی کے تسلسل میں کی جا رہی ہیں۔ بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال کے باعث سرکاری دعووں، ہلاکتوں کی شناخت اور کسی ممکنہ شہری نقصان کے بارے میں حتمی تصویر متعلقہ اداروں کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔




