پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان میں شعبان اور دیگر علاقوں میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ 27 ستمبر کو جاری تفصیلات کے مطابق حالیہ کارروائیوں کا سلسلہ 21 ستمبر کو زیارت اور گردونواح میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر شروع ہونے والی کارروائی کے بعد مزید وسیع کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے ضلع کوئٹہ کے عمومی علاقے شعبان میں متعدد ٹھکانوں کی نشاندہی کی تھی۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے مختلف ٹھکانے کلیئر کیے۔ فوجی ترجمان کے مطابق شعبان آپریشن کے ایک مرحلے میں 33 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے اور اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ بعد کے 72 گھنٹوں میں کارروائی مزید تیز کی گئی اور مزید 23 افراد مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔
بیان میں بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی الگ کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 25 ستمبر کو نوشکی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ مند میں ایک اور کارروائی میں چھ افراد مارے گئے اور اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ اس طرح فوجی ترجمان نے شعبان اور دیگر کارروائیوں کو ملا کر گزشتہ 96 گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 71 سے زائد بتائی ہے۔
آئی ایس پی آر نے ان افراد اور گروہوں کے لیے ریاستی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے انہیں بھارت کی سرپرستی سے جوڑا اور افغان طالبان حکومت پر بھی پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں سے متعلق الزامات عائد کیے۔ یہ الزامات پاکستانی فوج کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں؛ رپورٹ میں انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ متعلقہ دوسرے فریقوں کا تازہ تفصیلی ردعمل فوری طور پر دستیاب نہیں تھا۔
فوجی بیان کے مطابق وسیع علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور کارروائیاں خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا۔ بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث صوبے کے متعدد اضلاع میں سکیورٹی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

