کوئٹہ میں بلوچستان کی صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کے اجلاس میں آئندہ ویکسینیشن مہم کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس کی صدارت چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کی، جبکہ وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے پولیو عائشہ رضا نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں گزشتہ انسدادِ پولیو مہم کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ شرکا نے ویکسینیشن کوریج، فیلڈ ٹیموں کی تیاری، مائیکرو پلاننگ اور ان علاقوں تک رسائی کے مسائل کا جائزہ لیا جہاں بچوں کو قطرے پلانے میں رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔ مختلف محکموں اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داریوں پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ آئندہ مہم کے دوران رابطے اور نگرانی کا نظام زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

چیف سیکریٹری نے کہا کہ بلوچستان سے پولیو وائرس کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ انسانی وسائل، ویکسین کی ترسیل، کولڈ چین، ٹیموں کی تربیت اور مقامی سطح پر آگاہی کے لیے موجود سہولتوں کو پوری طرح بروئے کار لایا جائے۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف ہر مہم کے دوران مسائل حل کرنا کافی نہیں، بلکہ ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی وجوہات اور ان علاقوں کی مستقل نشاندہی ضروری ہے جہاں بار بار کوریج میں خلا پیدا ہوتا ہے۔ ضلعی حکام سے کہا گیا کہ وہ مقامی آبادی، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور صحت کے کارکنوں کے ساتھ رابطہ بہتر بنائیں تاکہ غلط معلومات اور والدین کے خدشات کا بروقت جواب دیا جا سکے۔

پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں گھر گھر جانے والی ٹیموں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دور دراز آبادیوں، نقل مکانی کرنے والے خاندانوں اور کم سہولت یافتہ علاقوں تک رسائی بلوچستان میں ایک مستقل عملی چیلنج رہی ہے۔ اسی لیے مائیکرو پلاننگ میں بچوں کی تازہ فہرستیں، ٹیموں کے راستے، ویکسین کی بروقت فراہمی اور مہم کے بعد آزادانہ نگرانی کو اہم قرار دیا گیا۔

صوبائی حکام کے مطابق پولیو سے پاک مستقبل صرف ایک طبی ہدف نہیں بلکہ بچوں کی مستقل صحت اور معذوری سے تحفظ کا قومی مقصد ہے۔ ٹاسک فورس نے متعلقہ اداروں سے آئندہ مہم کے دوران کارکردگی کی مسلسل رپورٹنگ اور سامنے آنے والی رکاوٹوں کے فوری حل کے لیے مشترکہ نظام فعال رکھنے کو کہا ہے۔