اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جسٹس عائشہ ملک کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ جسٹیشیا ایوارڈز 2026 میں انٹرنیشنل لیڈر/لائف ٹائم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ اعزاز قانون اور انصاف کے شعبے میں ان کی خدمات، مساوات اور انسانی حقوق کے فروغ اور قانونی پیشے و انصاف کے اداروں میں خواتین کی بامعنی شرکت کے لیے مسلسل کام کے اعتراف میں دیا گیا۔
جسٹس عائشہ ملک پاکستان کی عدالتی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں اور اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ان کا کردار بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کرتا رہا ہے۔ ویانا میں دیا جانے والا اعزاز ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو عالمی قانونی برادری کی جانب سے تسلیم کیے جانے کی ایک نئی مثال ہے۔
رپورٹ کے مطابق جسٹیشیا ایوارڈز کا مقصد قانون اور انصاف کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کے لیے اعلان کردہ انٹرنیشنل لیڈر/لائف ٹائم ایوارڈ میں ان کی قانونی و عدالتی خدمات کے ساتھ ان کوششوں کو بھی خاص طور پر سراہا گیا جن کا تعلق مساوی مواقع، بنیادی حقوق اور خواتین کی قانونی اداروں میں شرکت سے ہے۔
پاکستان میں عدالتی اداروں میں خواتین کی نمائندگی ایک طویل عرصے سے قانونی اور سماجی مباحث کا موضوع رہی ہے۔ ایسے میں ایک پاکستانی سپریم کورٹ جج کو بین الاقوامی سطح پر ملنے والا یہ اعزاز نہ صرف ان کی انفرادی پیشہ ورانہ کارکردگی بلکہ ملکی عدلیہ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ تاہم ایوارڈ کا تعلق کسی زیر سماعت مقدمے، عدالتی فیصلے یا موجودہ سیاسی تنازع سے نہیں بلکہ ان کی مجموعی قانونی خدمات سے ہے۔
ویانا میں ہونے والی تقریب کے حوالے سے دستیاب رپورٹ میں ایوارڈ کے بنیادی اسباب قانون و انصاف کی ترقی، انسانی حقوق، مساوات اور قانونی شعبے میں خواتین کی شرکت بتائے گئے ہیں۔ یہ اعزاز پاکستان کے قانونی حلقوں کے لیے بھی اہم بین الاقوامی شناخت ہے اور اس سے عالمی قانونی فورمز پر پاکستانی عدالتی شخصیات کی نمائندگی مزید نمایاں ہوئی ہے۔




