بلوچستان حکومت کے سینئر حکام نے کہا ہے کہ صوبے میں قومی ایکشن پلان، انسداد دہشت گردی پالیسی اور صوبائی ایکشن پلان کے تحت 14 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے، 18 قوانین منظور کیے گئے اور 17 ادارے و محکمے قائم کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد صوبائی وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو، وزیراعلیٰ کے مشیر شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پیش کیے۔
حکام نے دعویٰ کیا کہ اکتوبر تک بلوچستان بھر میں 60 ہزار سے زیادہ انسداد دہشت گردی کارروائیاں کی گئیں جن میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے الگ طور پر 250 دہشت گردوں کو ہلاک اور 250 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ یہ اعداد صوبائی حکومت کے دعوے ہیں اور دستیاب رپورٹ میں ان تمام کارروائیوں کی آزادانہ یا واقعہ وار تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
حکام کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 101 پولیس اہلکار اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً 200 اہلکار جان سے گئے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 551 شہری بھی ہلاک ہوئے۔ حکومت نے ان اعداد کو صوبے میں جاری سکیورٹی چیلنج کی شدت اور ریاستی اداروں کی کارروائیوں کے تناظر میں پیش کیا۔
صوبائی حکام نے بتایا کہ کوئٹہ-رکھنی، کوئٹہ-کراچی اور کوئٹہ-تفتان شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ تین سے چار ماہ میں سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ تاہم یہ مستقبل سے متعلق سرکاری توقع ہے اور اس کے نتائج کا انحصار زمینی حالات، شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر ہوگا۔
بلوچستان طویل عرصے سے علیحدگی پسند تشدد، شدت پسند حملوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا سامنا کرتا رہا ہے۔ حکومت نے حالیہ اقدامات کو ادارہ جاتی اصلاحات، قانونی ڈھانچے اور عملی سکیورٹی کارروائیوں کے مجموعے کے طور پر پیش کیا ہے۔
جاری کیے گئے اعداد میں سرکاری اخراجات اور کارروائیوں کا مجموعی خاکہ دیا گیا ہے، تاہم عوامی سطح پر ان کے مکمل آڈٹ، آپریشن وار تفصیل اور نتائج کی آزادانہ جانچ محدود ہے۔ اس لیے ہلاکتوں اور کارروائیوں سے متعلق اعداد کو صوبائی حکام کے بیان کردہ دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، جبکہ کسی مخصوص واقعے یا فرد کے بارے میں قانونی حیثیت متعلقہ تفتیش اور عدالتی عمل سے طے ہوگی۔
