پنجاب کے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے ملتان کے ایک یتیم خانے میں رہنے والے 16 کمسن بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے کر بیورو کے ملتان مرکز منتقل کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ کارروائی شہر میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کے بعد بچوں کی حفاظت اور نگہداشت یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔ متعلقہ یتیم خانے کی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ساتھ رجسٹریشن کی درخواست بھی مسترد ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد کی ہدایت پر ایک ٹیم نے ادارے کا دورہ کیا اور وہاں موجود بچوں کو منتقل کیا۔ حکام کے مطابق یتیم خانہ پنجاب چیریٹی کمیشن کے ساتھ پہلے سے رجسٹرڈ تھا، تاہم چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے کمیشن کو خط لکھ کر اس رجسٹریشن کا جائزہ لینے اور قانون کے مطابق ضروری کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے۔

بیورو نے متعلقہ حکام سے پولیس کارروائی کے لیے بھی رابطہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بچوں کی رہائش، نگرانی اور تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کی نگرانی اور مقررہ ضابطہ کار پر عمل ضروری ہے۔ بیورو نے رجسٹرڈ شیلٹر ہومز کی فہرست بھی جاری کی ہے تاکہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کی قانونی حیثیت اور نگرانی کے نظام کو واضح کیا جا سکے۔

سارہ احمد نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد یا بدسلوکی کے معاملے میں صفر برداشت کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔ موجودہ کارروائی حفاظتی نوعیت کی ہے؛ کسی فرد یا ادارے کے خلاف فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔ بچوں کو حفاظتی تحویل میں منتقل کرنے کا مقصد ان کی فوری سلامتی اور مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

یہ اقدام ملتان میں ایک کمسن کارکن کی ہلاکت کے بعد بچوں کی فلاح سے متعلق اداروں کی نگرانی پر بڑھتی توجہ کے ماحول میں سامنے آیا ہے۔ تاہم 16 بچوں کے معاملے میں دستیاب تصدیق شدہ معلومات ان کی حفاظتی منتقلی، رجسٹریشن کے جائزے اور حکام سے کارروائی کی درخواست تک محدود ہیں، اس لیے تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے مزید ذمہ داری منسوب کرنا مناسب نہیں ہوگا۔