خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انڈس ہائی وے کے قریب مسلح افراد کی جانب سے مسافروں اور شوگر مل کے کارکنوں کو اغوا کیے جانے کے بعد کم از کم 17 کارکن تاحال لاپتا ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے کے مطابق واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تھانہ پروآ کی حدود میں چیرا مائنر کے قریب پیش آیا۔

رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے ڈیرہ غازی خان سے راولپنڈی جانے والی ایک مسافر کوچ کو روکا اور متعدد افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اسی علاقے میں شوگر مل کی ایک بس میں سفر کرنے والے سکیورٹی گارڈز اور کارکنوں کے اغوا کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بعد میں پانچ مسافر، جن کی شناخت ارسلان، ماجد، کاشف، شیراز اور حماد کے نام سے ہوئی، رہا ہو گئے۔ رہا ہونے والے افراد نے بتایا کہ انہیں محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے کئی گھنٹے پیدل چلنا پڑا۔

تاہم 17 شوگر مل کارکنوں کا سراغ نہیں مل سکا۔ مقامی باشندوں اور متاثرہ خاندانوں نے پروآ اڈہ کے مقام پر احتجاج کیا اور انڈس ہائی وے پر ٹریفک روک کر لاپتا افراد کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے باعث علاقے میں تشویش پائی جاتی ہے اور خاندان اپنے عزیزوں کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔

پولیس کے مطابق اغوا شدہ افراد کی بازیابی کے لیے آپریشن جاری ہے اور متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ دستیاب رپورٹنگ میں اغوا کاروں کی شناخت یا کسی تنظیم کی ذمہ داری کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے واقعے کو کسی مخصوص گروہ سے منسوب کرنا قبل از وقت ہوگا۔ اسی طرح لاپتا کارکنوں کی موجودہ حالت کے بارے میں بھی حکام نے کوئی حتمی معلومات جاری نہیں کیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی کے مسائل کے تناظر میں شاہراہوں پر مسافروں اور کارکنوں کی حفاظت ایک اہم انتظامی چیلنج ہے۔ موجودہ واقعے میں فوری ترجیح لاپتا افراد کی محفوظ بازیابی اور حملہ آوروں کی شناخت ہے۔ مزید تفصیلات پولیس آپریشن اور سرکاری تحقیقات کے بعد واضح ہوں گی۔