ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات کے دوران پولیس نے ایک یتیم خانے کے منتظم کے خلاف مبینہ طور پر بچے کو مطلوبہ اجازت کے بغیر کام پر بھیجنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ دی نیوز کے مطابق مقدمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی شکایت پر درج کیا گیا، جس میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی گورننگ باڈی کے رکن شعیب کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وسیم عباس ایک این جی او کے زیر انتظام یتیم خانے میں رہتا تھا اور اسے اپنی ہلاکت سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے توقیر نذیر کے ساتھ الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق بچہ مبینہ بدسلوکی کے باعث کام چھوڑنا چاہتا تھا۔ بعد میں رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سوسائٹی میں اسے مبینہ طور پر گاڑی سے تعاقب کرکے کچلنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد قتل کی تفتیش شروع ہوئی۔
توقیر نذیر کو اس مقدمے میں مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کیا گیا تھا اور ملتان کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے اسے تفتیش کے لیے پولیس کی تحویل میں دیا۔ 21 اکتوبر کو پنجاب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے دعویٰ کیا کہ توقیر بہاولپور کے قریب ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ سی سی ڈی کے ضلعی افسر عرفان اکبر کے مطابق پولیس نے ناردرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل سوار دو افراد کو روکنے کی کوشش کی، جس پر فائرنگ ہوئی اور توقیر ہلاک ہوگیا۔ یہ پولیس کا بیان ہے اور مقابلے کے حالات سے متعلق آزاد یا عدالتی جانچ کے نتائج الگ حیثیت رکھتے ہیں۔
یتیم خانے کے منتظم کے خلاف تازہ مقدمہ بچے کو ملازمت کے لیے منتقل کرنے یا بھیجنے کے قانونی طریقہ کار پر مرکوز ہے، نہ کہ اسے گاڑی سے کچلنے کے اصل قتل کے الزام پر۔ پولیس نے بتایا کہ اس کارروائی کی بنیاد یہ الزام ہے کہ بچے کو مطلوبہ اجازت کے بغیر کام پر بھیجا گیا۔ توقیر کے خلاف چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت ایک الگ مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا، جس میں کم عمر بچے کو ملازمت دینے کا الزام عائد کیا گیا۔
ان تمام کارروائیوں میں الزامات اور مقدمات کو ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ یتیم خانے کے منتظم کی قانونی ذمہ داری، ادارے کے قواعد کی خلاف ورزی اور بچے کی ملازمت کے انتظام سے متعلق حقائق تفتیش اور عدالتی عمل میں طے ہوں گے۔ تاہم واقعے نے یتیم اور زیر کفالت بچوں کو کام یا تربیت کے لیے نجی افراد کے حوالے کرنے کے طریقہ کار، لیبر قوانین اور ادارہ جاتی نگرانی کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
