اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وکیل اور انسانی حقوق کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف زیر سماعت سیکیورٹی بریچ مقدمے میں ایڈووکیٹ تیمور جنجوعہ کو ریاست کی جانب سے وکیل مقرر کر دیا ہے۔ ڈان کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے یہ تقرری مقدمے کی کارروائی کے دوران کی اور سماعت اگلے روز 22 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

رپورٹ کے مطابق تیمور جنجوعہ اس سے قبل بھی جوڑے سے متعلق ایک الگ سوشل میڈیا پوسٹس مقدمے میں ان کی نمائندگی کے لیے سرکاری طور پر مقرر کیے گئے تھے۔ اس تقرری پر ایمان مزاری اور ہادی علی نے اعتراض کیا تھا۔ موجودہ سیکیورٹی بریچ مقدمے میں بھی عدالت کی جانب سے سرکاری وکیل مقرر کرنے کا اقدام مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کے انتظامی اور قانونی مرحلے کا حصہ ہے، نہ کہ الزامات پر کسی حتمی عدالتی فیصلے کا اعلان۔

عدالتی کارروائی میں کسی ملزم کے لیے سرکاری وکیل کی تقرری اس صورت میں کی جا سکتی ہے جب عدالت منصفانہ سماعت اور کارروائی کے تسلسل کے لیے قانونی نمائندگی ضروری سمجھے۔ تاہم ملزمان کو اپنے دفاع اور وکیل کے انتخاب سے متعلق قانونی حقوق حاصل رہتے ہیں، جن کا تعین متعلقہ قانون اور عدالت کے احکامات کے مطابق ہوتا ہے۔ اس مقدمے میں فریقین کے اعتراضات یا دلائل کا حتمی نتیجہ آئندہ سماعتوں سے واضح ہوگا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف مختلف مقدمات اور قانونی کارروائیاں حالیہ عرصے میں خبروں میں رہی ہیں۔ ہر مقدمہ الگ الزامات، شواہد اور قانونی دفعات سے متعلق ہے، اس لیے ایک مقدمے کی کارروائی کو دوسرے مقدمے کے نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ موجودہ خبر صرف سیکیورٹی بریچ کیس میں ریاستی وکیل کی تقرری اور سماعت ملتوی ہونے سے متعلق ہے۔

عدالت نے ابھی اس مقدمے میں جرم ثابت ہونے یا بریت سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ ملزمان کے خلاف عائد الزامات قانونی دعوے ہیں جن کی جانچ عدالتی عمل میں ہونی ہے۔ آئندہ سماعت میں سرکاری وکیل کی حیثیت، دفاع کے مؤقف اور مقدمے کی مزید کارروائی سے متعلق پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔