ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملتان کے نوجوان وسیم عباس کی ہلاکت سے متعلق مقدمے کے مرکزی ملزم کی پولیس کارروائی کے دوران موت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی تازہ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے نے کہا کہ زیر حراست یا پولیس نگرانی میں موجود کسی ملزم کی ہلاکت کے حالات کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے تاکہ حقائق واضح ہوں اور قانون کے مطابق ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت اس واقعے کے بعد سامنے آئی جس میں پولیس نے کہا تھا کہ وسیم عباس کیس کا ملزم جسمانی ریمانڈ کے دوران حراست سے فرار ہوا اور بعد میں ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کا یہ مؤقف سرکاری دعویٰ ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق عدالتی یا غیر جانب دارانہ تحقیقات کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ اسی وجہ سے انسانی حقوق کے حلقوں نے واقعے کے مکمل شواہد، پولیس تحویل کے ریکارڈ اور کارروائی کے حالات کی جانچ پر زور دیا ہے۔
وسیم عباس کے معاملے نے پہلے ہی وسیع عوامی توجہ حاصل کی تھی۔ مقدمے میں ایک کم عمر نوجوان کی موت اور اس سے پہلے پیش آنے والے مبینہ تشدد یا گاڑی تلے کچلے جانے کے واقعے سے متعلق قانونی کارروائی جاری تھی۔ مرکزی ملزم کی موت کے بعد مقدمے کی تفتیش اور متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کے عمل سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی ملزم کے خلاف الزامات کا فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہونا قانونی اصول ہے۔
ایچ آر سی پی کا مطالبہ بنیادی طور پر احتساب اور شفافیت سے متعلق ہے۔ ادارے کے مطابق پولیس مقابلوں سے متعلق متنازع واقعات میں ایسی تحقیقات ضروری ہیں جو براہ راست متعلقہ پولیس یونٹ کے اثر سے آزاد ہوں۔ آزادانہ انکوائری سے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ ملزم کس طرح حراست سے نکلا، فائرنگ کن حالات میں ہوئی، کون سے اہلکار موجود تھے اور دستیاب فرانزک یا دیگر شواہد پولیس کے بیان کی کس حد تک تائید کرتے ہیں۔
اس مرحلے پر کسی اہلکار کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا اور نہ ہی پولیس کے بیان کو حتمی عدالتی حقیقت قرار دیا جا سکتا ہے۔ معاملے کی درست قانونی حیثیت کسی باضابطہ انکوائری، تفتیش یا عدالتی کارروائی کے نتیجے سے واضح ہو گی۔ انسانی حقوق کمیشن کی مداخلت نے کیس کو اب اصل مقدمے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے احتساب کا مسئلہ بھی بنا دیا ہے۔
