کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں 30 دن کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ کے 23 ستمبر کے حکم کے مطابق یہ اقدام ایسی اطلاعات کے تناظر میں کیا گیا ہے جن میں اجتماعات اور سرگرمیوں سے امن و امان اور عوامی سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔
حکم کے تحت عوامی مقامات پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی۔ اس میں دھرنے، جلوس، ریلیاں، مظاہرے اور اسی نوعیت کے اجتماعات شامل کیے گئے ہیں۔ دفعہ 144 انتظامیہ کو ہنگامی یا ممکنہ خطرے کی صورت میں مخصوص سرگرمیوں پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
نوٹیفکیشن میں عوامی مقامات پر اسلحے کی نمائش، اسے ساتھ رکھنے یا استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، سوائے ان صورتوں کے جہاں قانون کے تحت واضح اجازت موجود ہو۔ اسی طرح عوامی مقامات پر مفلر، ماسک یا کسی دوسرے ذریعے سے چہرہ اس انداز میں ڈھانپنے پر پابندی لگائی گئی ہے جس سے کسی شخص کی شناخت میں رکاوٹ پیدا ہو۔
محکمہ داخلہ نے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو حکم پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پابندیاں 30 روز تک نافذ رہیں گی، تاہم مجاز اتھارٹی انہیں قانون کے مطابق واپس، تبدیل یا مزید بڑھا سکتی ہے۔
حکومت نے پابندیوں کی وجہ عمومی طور پر امن عامہ، قانون و نظم اور شہریوں کی حفاظت سے متعلق خدشات بتائی ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشن میں کسی ایک مخصوص واقعے کو ان تمام پابندیوں کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا، اس لیے اس اقدام کو صوبہ گیر احتیاطی انتظامی حکم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی صورت حال کے باعث مختلف اوقات میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کی جاتی رہی ہیں۔ موجودہ حکم کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اجتماع اور اسلحے کے ساتھ ساتھ شناخت چھپانے کے لیے چہرہ ڈھانپنے پر بھی واضح پابندی شامل کی گئی ہے۔ شہریوں اور منتظمین کے لیے کسی بھی عوامی اجتماع سے پہلے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے احکامات دیکھنا ضروری ہوگا۔
