بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی الگ الگ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 16 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈان کی 23 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں تربت، مستونگ اور کوئٹہ کے اضلاع میں ہوئیں اور ان سے متعلق معلومات سرکاری میڈیا اور متعلقہ پولیس حکام نے فراہم کیں۔

رپورٹ کے مطابق ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ تربت کے جوسک علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ سرکاری بیانیے میں ان کا تعلق بلوچستان میں سرگرم ایک دہشت گرد نیٹ ورک سے بتایا گیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے مطابق صوبے میں ردالفتنہ-3 کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔

مستونگ میں سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ ایک چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کے بعد ہونے والی کارروائی میں نو دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق موقع سے بھاری ہتھیار، گولہ بارود اور تین موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔ سرکاری میڈیا نے سکیورٹی فورسز کے حوالے سے کہا کہ خطرے کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے نواحی علاقے اغبرگ میں پولیس حکام کے مطابق مسلح افراد نے علی الصبح ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ صدر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس شفقت جنجوعہ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں پانچ حملہ آور مارے گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک افراد کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا، جبکہ جائے وقوع سے ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لیا گیا۔

اسی روز ایدھی فاؤنڈیشن نے ایک الگ واقعے میں بتایا کہ قلات کی طرف واپس آنے والی اس کی ایک ایمبولینس کو نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر چھین لیا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق عملے کے رکن پر تشدد کے بعد مسلح افراد ایمبولینس لے گئے۔ اس واقعے کے ذمہ داروں سے متعلق فوری طور پر کوئی حتمی سرکاری نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے اسے سکیورٹی آپریشنز میں ہلاک ہونے والے افراد سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد انسداد دہشت گردی کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ موجودہ واقعات میں ہلاکتوں، وابستگیوں اور برآمدگیوں کی تفصیلات بنیادی طور پر سرکاری اداروں اور پولیس کے بیانات پر مبنی ہیں۔ آزاد ذرائع سے تمام آپریشنل تفصیلات کی الگ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔