گلگت: سکردو کی وادی روندو میں شنگوس کے قریب شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بلتستان روڈ مکمل طور پر بند ہوگئی، جس سے دونوں اطراف ہزاروں مسافر اور سیاح پھنس گئے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کے مطابق ملبہ مسلسل گرنے اور بڑے پتھروں کے سڑک پر موجود ہونے کے باعث معمول کی مشینری سے راستہ فوری طور پر صاف کرنا ممکن نہیں تھا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ جمعرات کی صبح ہوئی اور ٹریفک معطل کر دی گئی۔ جی بی ڈی ایم اے نے بتایا کہ بڑے پتھروں کو ہٹانے کے لیے بلاسٹنگ درکار ہے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن بلاسٹنگ ٹیم کو متحرک کر رہی ہے۔ حکام نے عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور روانگی سے پہلے پولیس ہیلپ لائن 15 سے سڑک کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کا مشورہ دیا۔
اتھارٹی نے خاص طور پر لوگوں کو لینڈ سلائیڈنگ والے مقام کو پیدل عبور کرنے کی کوشش نہ کرنے کی تنبیہ کی، کیونکہ مزید ملبہ گرنے کا خطرہ موجود ہے۔ ابتدائی ہدایت کے مطابق سڑک کم از کم جمعہ تک بند رہنے کا امکان تھا، تاہم بحالی کا حتمی وقت ملبے کی صورتحال اور بلاسٹنگ کے کام کی پیش رفت پر منحصر ہے۔
167 کلومیٹر طویل جگلوٹ-سکردو روڈ، جسے بلتستان روڈ کا نام دیا گیا ہے، دریائے سندھ کے ساتھ پہاڑی علاقے سے گزرتی ہے اور سکردو، کھرمنگ، شگر اور گانچھے کے رہائشیوں کے لیے ملک کے دیگر حصوں تک رسائی کا اہم راستہ ہے۔ سڑک کی تعمیر نو کے بعد 2021 میں افتتاح کیا گیا تھا، مگر متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی پتھروں کے گرنے کے واقعات نقل و حرکت کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
مقامی رہائشیوں نے سڑک پر حفاظتی اقدامات، رکاوٹوں، انتباہی نشانات اور مواصلاتی سہولتوں کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطرناک موڑ اور لینڈ سلائیڈنگ کے حساس مقامات پر اضافی حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔ ان شکایات کے بعض پہلو مقامی رہائشیوں کے مؤقف پر مبنی ہیں؛ تاہم موجودہ بندش اور مزید سلائیڈنگ کے خطرے کی تصدیق جی بی ڈی ایم اے کے بیان سے ہوتی ہے۔

