لاہور: پنجاب کے دارالحکومت میں فضائی آلودگی جمعہ 23 اکتوبر کو شدید سطح پر پہنچ گئی اور IQAir کے لائیو عالمی درجہ بندی نظام میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ صبح کے وقت پلیٹ فارم پر شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 410 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دن کے مختلف اوقات میں ریڈنگز بدلتی رہیں۔ لائیو AQI درجہ بندی مسلسل اپ ڈیٹ ہوتی ہے، اس لیے کسی مخصوص وقت کی ریڈنگ کو پورے دن کی مستقل قدر نہیں سمجھا جاتا۔
IQAir کے مطابق لاہور میں PM2.5 کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ رہنما حد سے کئی گنا زیادہ تھی۔ PM2.5 انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور طویل عرصے کی نمائش میں دل، پھیپھڑوں اور دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ مختلف مقامات پر آلودگی کی سطح میں نمایاں فرق بھی دیکھا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ شہر کے اندر فضائی معیار یکساں نہیں تھا۔
پنجاب حکومت کے فضائی معیار کے مانیٹرنگ نظام نے بھی لاہور میں بہت خراب فضا کی نشاندہی کی۔ سرکاری پلیٹ فارم اور IQAir کی ریڈنگز میں فرق موجود تھا، جس کی ممکنہ وجوہات میں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کی جگہ، ڈیٹا کے اوسط کا دورانیہ اور استعمال ہونے والے طریقہ کار شامل ہیں۔ تاہم دونوں نظام اس بنیادی نتیجے پر متفق تھے کہ شہر میں آلودگی صحت کے لیے تشویشناک سطح پر تھی۔
ماہرین عموماً لاہور کی سردیوں کی سموگ کو گاڑیوں کے اخراج، صنعتی دھوئیں، تعمیراتی گرد، زرعی باقیات جلانے اور ایسے موسمی حالات کے مشترکہ اثر سے جوڑتے ہیں جو آلودہ ذرات کو زمین کے قریب روک لیتے ہیں۔ کسی ایک دن کی آلودگی کو صرف ایک سبب سے منسوب کرنا درست نہیں، کیونکہ ہوا کی رفتار، درجہ حرارت اور علاقائی آلودگی کی نقل و حرکت بھی روزانہ کی ریڈنگز پر اثر انداز ہوتی ہے۔
شدید آلودگی کے دوران شہریوں کو غیر ضروری بیرونی جسمانی سرگرمی محدود کرنے، کھڑکیاں بند رکھنے اور باہر جاتے وقت مناسب ماسک استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے احتیاط خاص طور پر اہم ہے۔ لاہور اس ماہ کے آغاز میں بھی عالمی آلودگی درجہ بندی میں سرفہرست آ چکا تھا، جس سے موسمِ سرما سے پہلے فضائی معیار کے مستقل مسئلے کی سنگینی نمایاں ہوتی ہے۔

