لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی نے ایک بار پھر خطرناک سطح اختیار کر لی اور جمعہ کو شہر عالمی آلودگی کی درجہ بندی میں سرفہرست رپورٹ ہوا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ایئر کوالٹی انڈیکس ایسی سطح پر پہنچا جسے صحت کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے، جبکہ طبی ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔
فضائی آلودگی میں باریک ذرات، خصوصاً پی ایم 2.5، انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔ بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور دمہ یا دل کے امراض میں مبتلا افراد نسبتاً زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ماہرین نے باہر نکلتے وقت مناسب ماسک استعمال کرنے اور غیر ضروری کھلی فضا کی سرگرمیاں کم کرنے کا مشورہ دیا۔
لاہور میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ سموگ کا مسئلہ عموماً شدت اختیار کرتا ہے۔ کم ہوا، درجہ حرارت میں تبدیلی اور مقامی اخراج کے امتزاج سے آلودگی فضا میں زیادہ دیر تک رہ سکتی ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج، تعمیراتی گرد اور زرعی باقیات جلانے جیسے عوامل کو بھی خطے میں سموگ کے اہم اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔
روزانہ کی عالمی درجہ بندی اور اے کیو آئی ریڈنگ وقت اور مانیٹرنگ مقام کے ساتھ بدل سکتی ہے، اس لیے کسی ایک لمحے کی پوزیشن کو مستقل درجہ بندی نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاہم خطرناک زمرے میں آنے والی ریڈنگ شہری صحت کے لیے فوری احتیاط کی ضرورت ظاہر کرتی ہے، چاہے شہر کی عالمی پوزیشن بعد میں تبدیل ہو جائے۔
پنجاب حکومت نے گزشتہ برسوں میں سموگ کے خلاف نگرانی، اخراج کنٹرول اور مختلف موسمی پابندیوں کے اقدامات کیے ہیں، لیکن مسئلے کی نوعیت علاقائی اور کثیرالجہتی ہے۔ موجودہ سیزن میں مؤثر ردعمل کے لیے مقامی اخراج میں کمی، صنعتی نگرانی، ٹریفک انتظام اور عوامی صحت کی بروقت ہدایات اہم رہیں گی۔

