ڈھاکا: بنگلہ دیش میں ہزاروں گارمنٹ کارکنوں نے تنخواہوں میں بڑے اضافے کے مطالبے پر پیر کو سڑکوں پر احتجاج کیا، جس کے دوران متعدد صنعتی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اے ایف پی کے مطابق کارکن موجودہ کم از کم اجرت سے دوگنا سے زیادہ، یعنی 30 ہزار ٹکا ماہانہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دارالحکومت ڈھاکا کے شمال میں واقع گازی پور میں سینکڑوں کارکنوں نے ڈھاکا-ٹانگیل شاہراہ بند کی، جبکہ میرپور میں بھی بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکلے۔ اے ایف پی کے نمائندوں کے مطابق بعض مقامات پر گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور پولیس نے ہجوم منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ ایک پولیس گاڑی کو آگ لگانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔

اشولیا میں، جو بنگلہ دیش کی بڑی گارمنٹ فیکٹریوں کا اہم مرکز ہے، سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسٹن گرینیڈ اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ خوراک، کھانا پکانے کی گیس، بجلی اور دیگر گھریلو اخراجات میں اضافے کے باعث موجودہ اجرت پر گزارا مشکل ہو گیا ہے۔ بنگلہ دیش سینٹر فار ورکرز سولیڈیریٹی کی کلپونا اختر کے مطابق کارکن اس وقت تقریباً 13 ہزار ٹکا ماہانہ کماتے ہیں۔

احتجاج ایک ایسے وقت میں ہوا جب حکومت نے ایک روز قبل گارمنٹ صنعت کی کم از کم اجرت کا جائزہ لینے کے لیے ویج بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کارکنوں کے تحفظات صرف بورڈ کے قیام تک محدود نہیں بلکہ مہنگائی، حقیقی آمدن میں کمی اور دیگر حل طلب مسائل سے بھی متعلق ہیں۔

وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکومت غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم طارق رحمان نے حکام کو کارکنوں کے حقوق اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ حکومت پیداوار اور برآمدات میں رکاوٹ سے بچنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

گارمنٹ اور نٹ ویئر صنعت کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ طویل احتجاج سے پیداوار، برآمدی شپمنٹس اور بین الاقوامی خریداروں سے کیے گئے وعدے متاثر ہو سکتے ہیں۔ صنعتی نمائندوں کے مطابق اتوار کو ڈھاکا اور گرد و نواح کے ساور، اشولیا، جیرانی اور گازی پور سمیت علاقوں کی کم از کم 529 فیکٹریوں کے کارکن کام کی جگہوں سے باہر نکل آئے تھے۔

بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا کے سب سے بڑے ملبوسات برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور یہ صنعت ملک کی برآمدی آمدن کا بنیادی ستون ہے۔ اسی وجہ سے اجرت کے تنازعے کا حل صرف مزدوروں کی آمدن ہی نہیں بلکہ ملک کی وسیع تر برآمدی معیشت اور عالمی سپلائی چین کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔