بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل کسی ممکنہ مشترکہ اقتصادی یا دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے تصور پر مثبت غور کا عندیہ دیا ہے۔ دی نیشن نے بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ مشیر خارجہ ہمایوں کبیر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ڈھاکا ایسے انتظام کے امکان کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے، تاہم کوئی فیصلہ قومی مفادات، عالمی معاشی حالات اور بین الاقوامی تجارت میں تبدیلیوں کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

ہمایوں کبیر کے بیان سے فوری رکنیت یا باضابطہ معاہدہ ثابت نہیں ہوتا۔ دستیاب رپورٹ میں کسی تحریری دعوت، طے شدہ شرائط، مشترکہ سیکریٹریٹ یا مذاکراتی جدول کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے خبر کا درست مفہوم یہ ہے کہ بنگلہ دیشی عہدیدار نے امکان کے لیے دروازہ کھلا رکھا اور جائزے کی شرائط بیان کیں۔ اسے چار ملکی اتحاد کے قیام یا ڈھاکا کی حتمی منظوری قرار دینا موجودہ معلومات سے آگے جانا ہوگا۔

مشیر خارجہ نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان کے ساتھ عملی دوطرفہ تعلقات کو معمول کی سفارتی سرگرمی کے طور پر مضبوط کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تجارت اور عوامی روابط بڑھانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ یہ پہلو ظاہر کرتا ہے کہ زیر بحث تصور صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی تعاون اور علاقائی تجارت سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم ممکنہ فریم ورک کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور ہر ملک کی ذمہ داریوں کے بارے میں تفصیل سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت ملی ہے اور ان کا سعودی عرب کا دورہ متوقع ہے۔ دورے کی حتمی تاریخ یا ایجنڈا رپورٹ میں فراہم نہیں کیا گیا۔ اگر یہ دورہ ہوتا ہے تو اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی تعلقات پر بات چیت کا امکان ہوگا، لیکن کسی دفاعی شمولیت کو پہلے سے طے شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

علاقائی سطح پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کی تجاویز سفارتی اور سلامتی مباحث میں اہم ہیں، مگر ہر ریاست اپنے قانونی طریقہ کار، خارجہ پالیسی اور دفاعی ترجیحات کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔ اگلی قابل تصدیق پیش رفت باضابطہ سرکاری اعلامیہ، مذاکراتی نشست یا معاہدے کے مسودے کی صورت میں ہوگی۔ فی الحال بنگلہ دیش کا مثبت مگر مشروط جائزے کا مؤقف ہی دستیاب اور قابل نسبت خبر ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک