امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے درخواست گزاروں کو امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کی معطلی سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کالعدم قرار دے دی ہے۔ ڈان میں شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے مین ہٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے فیصلہ دیا کہ پالیسی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیار سے تجاوز کرتی ہے۔

عدالت کے مطابق امریکی امیگریشن قانون نے قونصلر افسران کے امیگرنٹ ویزا عمل پر وزیر خارجہ کے اختیار کو واضح طور پر محدود کیا ہے، جبکہ زیرِ بحث پالیسی نے درخواست گزار کی قومیت کی بنیاد پر پورے زمرے کے ویزوں کا اجرا روک دیا تھا۔ فیصلہ پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، یوراگوئے، بوسنیا، البانیہ اور افریقہ، مشرقِ وسطیٰ و کیریبین کے متعدد ملکوں سے متعلق پالیسی پر لاگو ہوتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے معطلی کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ان ممالک کے درخواست گزار امریکا میں سرکاری وسائل پر انحصار کرنے کے زیادہ خطرے میں ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے اس عمومی قومی درجہ بندی کو قانونی اسکیم سے متصادم قرار دیا۔ رپورٹ کے وقت محکمہ خارجہ نے عدالتی فیصلے پر فوری ردعمل جاری نہیں کیا تھا، اس لیے اپیل، نئی محدود پالیسی یا انتظامی عمل کے اگلے مرحلے کی تصدیق ابھی باقی ہے۔

مقدمہ امیگرنٹ حقوق کی تنظیموں، متاثرہ ویزا درخواست گزاروں اور اپنے رشتہ داروں کی کفالت کرنے والے امریکی شہریوں نے دائر کیا تھا۔ فیصلہ امیگرنٹ ویزوں سے متعلق ہے؛ اسے سیاحتی، طالب علم یا دیگر نان امیگرنٹ ویزا زمروں پر خودکار طور پر لاگو سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح عدالتی حکم کا مطلب ہر زیرِ التوا درخواست کی فوری منظوری نہیں، کیونکہ ہر کیس معمول کی اہلیت، دستاویزات اور سکیورٹی جانچ سے گزرتا ہے۔

پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے عملی اثر امریکی قونصلر مشنز کی ہدایات، ممکنہ اپیل اور کیسوں کی دوبارہ پراسیسنگ کے شیڈول سے واضح ہوگا۔ درخواست گزاروں کو صرف سرکاری امریکی ویزا ذرائع سے اپنی فائل کی حالت دیکھنی چاہیے اور کسی غیر مصدقہ ایجنٹ کے دعوے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک