امریکی سینیٹر کوری بکر نے پاکستان کے علاقائی سفارتی کردار کے بارے میں کہا ہے کہ اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ میں امن اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم مدد دے سکتا ہے۔ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر نے اپنی گفتگو میں پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہی تعلقات اسے مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت میں مفید مقام فراہم کرتے ہیں۔
کوری بکر کا بیان ایک امریکی قانون ساز کی سیاسی رائے ہے، کوئی باقاعدہ سفارتی معاہدہ یا امریکی حکومت کی نئی پالیسی کا اعلان نہیں۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سینیٹر کے مطابق موجودہ علاقائی تناؤ میں ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو متحارب یا اختلاف رکھنے والے فریقوں سے بات کرسکیں، اور پاکستان اپنی سفارتی رسائی کی وجہ سے اس عمل میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی روابط برقرار رکھتا آیا ہے۔ ایران کے ساتھ اس کی مشترکہ سرحد اور باقاعدہ سفارتی رابطہ ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ بھی ریاستی سطح پر تعلقات اور متعدد امور پر تعاون موجود ہے۔ تاہم کسی ثالثی کی عملی شکل اس وقت ہی واضح ہوگی جب متعلقہ حکومتیں باضابطہ درخواست، ایجنڈا اور قابلِ قبول طریقۂ کار طے کریں۔
سینیٹر کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی مذاکراتی عمل شروع ہوچکا ہے یا پاکستان کو باقاعدہ ثالث مقرر کردیا گیا ہے۔ موجودہ خبر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایک نمایاں امریکی قانون ساز نے پاکستان کی ممکنہ سفارتی افادیت کو تسلیم کیا۔ آنے والے دنوں میں امریکی انتظامیہ، پاکستانی وزارتِ خارجہ یا خطے کے دیگر ممالک کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آتا ہے تو وہ اس امکان کی حقیقی سیاسی اہمیت واضح کرے گا۔
علاقائی امن کی کوششوں میں ثالثی صرف رابطوں سے نہیں بلکہ فریقین کے اعتماد، واضح مقصد اور مستقل سفارتی عمل سے کامیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی کسی کردار کی صورت میں اپنے قومی مفادات، ہمسایہ تعلقات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں میں توازن بنیادی اہمیت رکھے گا۔ فی الحال کوری بکر کا بیان ایک سیاسی تجویز اور پاکستان کی سفارتی گنجائش کا اعتراف ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




