برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن کے امدادی قافلے پر 2024 کے مہلک حملے کی فوجداری تحقیقات آگے نہ بڑھانے کے اسرائیلی فوجی فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ایکسپریس اردو اور آج انگلش کے مطابق تینوں ملکوں کے مشترکہ بیان میں فیصلے کو شرمناک اور مایوس کن قرار دیا گیا۔
یکم اپریل 2024 کو ورلڈ سینٹرل کچن کی گاڑیوں کے قافلے پر حملے میں سات امدادی کارکن ہلاک ہوئے تھے۔ مرنے والوں میں تین برطانوی، ایک امریکی و کینیڈین دوہری شہریت رکھنے والا کارکن، ایک پولش، ایک آسٹریلوی اور ایک فلسطینی شامل تھا۔ امدادی تنظیم نے کہا تھا کہ قافلے کی نقل و حرکت اسرائیلی حکام کے ساتھ مربوط تھی۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کو ایک سنگین غلطی قرار دیا اور کہا کہ شناخت اور فیصلہ سازی میں خامیاں سامنے آئیں۔ تاہم اس کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد اور اس وقت کے حالات میں کمانڈروں کے فیصلے فوجداری کارروائی کی حد تک نہیں پہنچتے، اسی لیے مزید مجرمانہ تفتیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اسرائیلی فوج کا بیان ہے، جسے متاثرہ تنظیم اور تینوں حکومتوں نے قبول نہیں کیا۔
برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے کہا کہ وہ دو سال سے زیادہ عرصے سے فوری، مکمل اور شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ مشترکہ بیان کے مطابق عالمی یوم انسانیت کے موقع پر تحقیقات بند کرنے کا اعلان خاص طور پر تکلیف دہ تھا۔ آسٹریلیا نے احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے اسرائیلی سفیر کو طلب بھی کیا۔
ورلڈ سینٹرل کچن نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے آزاد کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کی حفاظت اور واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے ایسی تفتیش ضروری ہے جو فوجی ادارے سے آزاد ہو۔ اسرائیلی حکام نے اس تازہ مطالبے پر کسی نئے آزاد کمیشن کا اعلان نہیں کیا۔
یہ رپورٹ متنازع قانونی اور فوجی مؤقف کو واضح نسبت کے ساتھ پیش کرتی ہے: حملے اور سات ہلاکتوں کی حقیقت الگ ہے، جبکہ فوجداری ذمہ داری کے بارے میں اسرائیلی فیصلہ اور تین ملکوں و امدادی تنظیم کا اعتراض الگ قانونی و سیاسی موقف ہیں۔ اردو ہیڈ لائنز کسی آزاد تحقیق، عدالتی کارروائی یا سرکاری فیصلے میں تبدیلی سامنے آنے پر اسی واقعے کو اپ ڈیٹ کرے گا۔




