ترکمانستان نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے لیے اپنے مجوزہ سفارتی ایجنڈے میں امن سازی، احتیاطی سفارت کاری، پائیدار ترقی، بین الاقوامی سلامتی اور کثیرالجہتی تعاون کو مرکزی ترجیحات قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اشک آباد کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں مستقل غیر جانب داری کی پالیسی کو بنیاد بناتے ہوئے متعدد عالمی اقدامات پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔ یہ تجاویز ابھی اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادیں نہیں بلکہ آئندہ اجلاس کے لیے ترکمانستان کی سفارتی ترجیحات ہیں۔
امن اور احتیاطی سفارت کاری کے حصے میں ’عالمگیر امن کی حکمتِ عملی‘ پر بین الحکومتی مشاورت شروع کرنے، 2027 سے 2037 تک اقوام متحدہ کی ’مکالمہ اور احتیاطی سفارت کاری کی دہائی‘ قرار دینے اور کثیرالجہتی تعاون و ریاستوں کی خودمختار مساوات کے دوست گروپ کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ ترکمانستان نے اشک آباد میں امن، غیر جانب داری اور احتیاطی سفارت کاری کے تعلیمی مرکز کے تصور کو آگے بڑھانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔
ڈیجیٹل شعبے میں ترکمانستان اقوام متحدہ کی سرپرستی میں بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری میں مصنوعی ذہانت کے پُرامن استعمال کے لیے عالمی ضابطہ تیار کرنے کی تجویز دینا چاہتا ہے۔ اشک آباد میں ڈیجیٹل اعتماد اور ذمہ دار AI پر ماہرین کے مکالمے کا منصوبہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ جاری دستاویز میں ضابطے کا حتمی متن، قانونی حیثیت یا نفاذ کا طریقہ موجود نہیں، اس لیے اسے ابھی اصولی سفارتی اقدام اور مشاورت کی دعوت سمجھا جانا چاہیے۔
پائیدار رابطوں اور تجارت کے لیے 2026 سے 2035 کی اقوام متحدہ دہائیِ پائیدار نقل و حمل کے تحت عالمی اٹلس کی تیاری، پائیدار تجارتی رسد و کسٹمز تعاون کے بین الاقوامی مرکز اور بحیرۂ کیسپین کے راستے جنوبی و وسطی ایشیا کو یورپ سے ملانے والی بین العلاقائی راہداری جیسے تصورات شامل ہیں۔ ترکمانستان نے اوازہ پروگرام آف ایکشن 2024–2034 پر کام جاری رکھنے کی بات بھی کی، مگر کسی نئی راہداری کی لاگت، رکن ممالک یا تعمیراتی ٹائم لائن کا اعلان نہیں ہوا۔
موسمیاتی ترجیحات میں ’اشک آباد کلائمیٹ ڈائیلاگ‘ کے نام سے کثیرالجہتی پلیٹ فارم، شدید خشک سالی اور پانی کی کمی سے متاثر خطوں کے لیے تعاون اور قابلِ اعتماد توانائی رابطوں پر اعلیٰ سطحی فورم کی تیاری شامل ہے۔ انسانی تعاون کے حصے میں وسطی ایشیائی خواتین کے مکالمے، خواتین، امن و سلامتی کے ایجنڈے، نوجوانوں کی امن سازی میں شرکت اور سن 2028 کو بین الاقوامی قانون کا سال قرار دینے کی تجویز آگے بڑھانے کا ذکر ہے۔
ترکمانستان 2026–2028 کے لیے اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کا رکن ہے اور 2031–2032 کی سلامتی کونسل نشست سمیت بعض منتخب اداروں کے لیے ممکنہ امیدواریاں بھی تیار کر رہا ہے۔ اس وسیع ایجنڈے کی حقیقی پیش رفت جنرل اسمبلی میں رسمی تجاویز، شریک ریاستوں کی حمایت اور قراردادوں یا عملی پروگراموں کی صورت میں سامنے آئے گی۔ اردو ہیڈ لائنز ہر تجویز کو اس کے بعد کے اقوام متحدہ ریکارڈ کے مطابق منظور شدہ، زیرِ مشاورت یا محض مجوزہ حیثیت میں واضح کرے گا۔




