چین کے صوبہ جیانگ سو میں واقع جیانگ یِن تیان ہوا آرٹ اسکول اور اسلام آباد کے چائنا پاکستان ایجوکیشنل کلچرل انسٹی ٹیوٹ نے سسٹر اسکول تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ معاہدے کا مقصد دونوں اداروں کے درمیان اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی وسائل کے تبادلے اور طلبہ میں بین الاقوامی فہم کو فروغ دینا ہے۔

یہ معاہدہ جیانگ یِن میں ہونے والی تعلیمی سرگرمی کے دوران طے پایا۔ رپورٹ کے مطابق جولائی کے آخری ہفتے میں منعقد ہونے والے اوورسیز چائنیز اسکول لیڈرز جیانگ سو ٹور میں بائیس ملکوں سے انتیس تعلیمی سربراہان نے شرکت کی۔ اسی ماحول میں پاکستانی اور چینی اداروں نے مستقل رابطے کو ایک رسمی تعاون میں بدلنے پر اتفاق کیا۔

سسٹر اسکول ماڈل عموماً مشترکہ سیمینار، تدریسی تجربات، آن لائن کلاس روم رابطے، ثقافتی پروگرام اور انتظامی تربیت کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ موجودہ معاہدے میں بھی بین الاقوامی فہم کی تعلیم سے متعلق سیمینار، اساتذہ کی صلاحیت میں اضافہ، تعلیمی مواد کا اشتراک اور اداروں کی بین الاقوامی سمت مضبوط کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے اس نوعیت کا تعاون اس وقت مفید ہو سکتا ہے جب اسے مقامی نصاب اور طلبہ کی ضرورت کے مطابق عملی سرگرمیوں میں بدلا جائے۔ زبان، فنون، سائنس اور ڈیجیٹل تدریس کے میدان میں مشترکہ منصوبے طلبہ کو دوسرے معاشروں کو سمجھنے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کے درمیان براہ راست رابطہ کلاس روم کے طریقوں، تشخیص اور تخلیقی تعلیم کے تجربات بانٹنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

تعلیمی روابط پاکستان اور چین کے وسیع دوطرفہ تعلقات کا ایک نرم مگر دیرپا پہلو ہیں۔ سرکاری اور تجارتی منصوبوں کے مقابلے میں اسکول سطح کا تعاون نوجوانوں تک براہ راست پہنچتا ہے۔ اس کے ذریعے دونوں ملکوں کے طلبہ ایک دوسرے کی تاریخ، معاشرت اور روزمرہ زندگی کو محض درسی تعریفوں کے بجائے براہ راست سرگرمیوں سے سمجھ سکتے ہیں۔

معاہدے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ ادارے واضح سالانہ منصوبہ، طلبہ و اساتذہ کی شرکت کے قابل پیمائش اہداف اور نتائج کی باقاعدہ جانچ بنائیں۔ فی الحال اعلان تعاون کی بنیاد فراہم کرتا ہے؛ آئندہ مشترکہ پروگراموں، دوروں یا آن لائن تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیل سامنے آنے سے معلوم ہوگا کہ یہ شراکت کلاس روم میں کس حد تک عملی اثر پیدا کرتی ہے۔